تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 15
15 کر کے پڑھنے والا ، ظاہری طور پر صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور قرآن کریم کو چھپا کر پڑھنے والا خفیہ طور پر چندہ دینے والے کی طرح ہے۔پس جیسا کہ روایت میں ہے کہ صدقہ بلاؤں ، خطرات اور فتنوں کو دور کرتا ہے، ان کو ٹالتا ہے۔قرآن کریم کا پڑھنا اور اس طرح پڑھنا کہ اس کی سمجھ بھی آرہی ہو صدقے کے طور پر قبول ہوگا۔اور اس کی برکت سے تمام فتنوں سے بھی بچا جاسکتا ہے تمام برائیوں سے بھی بچا جا سکے گا اور ابتلاؤں سے بھی بچا جاسکے گا۔دو افراد ایسے ہیں جن پر حسد یعنی رشک جائز ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف دو آدمی ایسے ہیں جن کے بارے میں حسد ( یعنی رشک جائز ہے۔یعنی ایسا حسد جو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں بلکہ تعریفی رنگ میں ہو)۔ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہو۔اور اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی ہے تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے۔اور دوسرا دوسرا شخص وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو جس کو وہ وہاں خرچ کرتا ہے جہاں خرچ کرنے کا حق ہے اور اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے۔(بخاری کتاب التمنّى) تین دن سے کم عرصہ میں قرآن ختم کرنے والا قرآن سے کچھ نہیں سمجھتا قرآن کریم کے پڑھنے کے بھی کچھ آداب ہیں اس کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے