تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 13
13 حالت اس قوم کی ہوگی۔فرمایا کہ : ” مسلمانوں کو چاہئے تھا اور اب بھی ان کے لئے یہی ضروری ہے کہ وہ اس چشمہ کو عظیم الشان نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح ان کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔کاش مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک نیک راہ پیدا کر دی ہے۔اور وہ اس پر چل کر فائدہ اٹھا ئیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 140-141 الحکم 24 ستمبر 1904) کوئی بھی احمدی ایسا نہ ہو جو تلاوت قرآن کریم نہ کرتا ہو جب یہ دوسروں کے لئے نصیحت ہے تو یہ ہمارے لئے تو اور بھی زیادہ بڑھ کر ہے۔ایسے لوگوں کے لئے جو عمل نہیں کرتے ، قرآن کریم میں آیا ہے کہ {وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا} (الفرقان : ۱۳)۔اور رسول کہے گا اے میرے رب یقینا میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔پس احمدیوں کو ہمیشہ فکر کرنی چاہئے کیونکہ ماحول کا بھی اثر ہو جاتا ہے۔دنیا داری بھی غالب آ جاتی ہے۔کوئی احمدی کبھی بھی ایسا نہ رہے جو کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت نہ کرتا ہو، کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس کے احکام پر عمل نہ کرتا ہو۔اللہ نہ کرے کہ کبھی کوئی احمدی اس آیت کے نیچے آجائے کہ اس نے قرآن کریم کو متروک چھوڑ دیا ہو۔پس اس کے لئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو کمیاں ہیں ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے اندر کوئی کمی تو نہیں۔ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ تو نہیں دیا۔تلاوت با قاعدگی سے ہو رہی ہے یا نہیں۔ترجمہ پڑھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔تفسیر سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔متروک چھوڑنے کا