تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 77
77 میں ہے اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔پس اس کو پڑھنا بہت ضروری ہے تا کہ اس کو پڑھنے سے انسان کی، ایک مومن کی نیک فطرت اس نور سے منور ہو کر مزید روشن ہو اور صرف روشن کرنا ہی مقصد نہ ہو اپنے دل کو بلکہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل ہے جو اصل میں حقیقی روشنی کا فائدہ اٹھانے والا بناتا ہے۔ان احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جو ایک نیک فطرت انسان کے لئے ضروری ہیں۔جو ایک مومن کے لئے ضروری ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔جس سے انسان کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو جلا ملتی ہے۔جس سے روحانیت میں ترقی کے راستے متعین ہوتے ہیں۔اگر عمل نہیں تو صرف علمی حالت اس ذکر سے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔غیر از جماعت مسلمان جو ہیں ان میں بڑے حفاظ ہیں، بڑے مقررین بھی ہیں ، مفسرین بھی لیکن جب وہ اس پر اس طریق پر غور نہیں کر رہے جو زمانہ کے امام نے بتایا ہے تو یہ ایک ظاہری خول ہے جس سے کچھ فائدہ نہیں پاسکتے۔اس تعلیم کی عملی حالت اُن تمام باتوں کو اپنے اندر سمیٹتی ہے جس سے حقوق اللہ کی ادائیگی بھی ہورہی ہو اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہو رہی ہو۔تبھی یہ ذکر ہے جو انسان کی زندگی میں روحانی، اخلاقی علمی اور عملی معیاروں کو بلند کرنے کا باعث بنے گا۔قرآن کریم میں جو سینکڑوں احکامات پر مشتمل ہے اس کا پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے ذہنوں اور زبانوں کو تازہ رکھنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان تمام باتوں پر عمل بھی کیا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔“ (خطبه جمعه فرموده 25 دسمبر 2009 بحوالہ اخبار بدر جلد 59 شماره 11-10 صفحہ نمبر ۴) قرآن کریم ایک جامع اور محفوظ کتاب ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔پس ان مسلمانوں کے لئے بھی جو آنحضرت سلی لا پریتم کی پیشگوئی