تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 78

78 کے مطابق آنے والے مسیح موعود کو نہیں مانتے غور کرنے کا مقام ہے۔مسلمانوں کے پاس تو ایک ایسی جامع اور محفوظ کتاب ہے جس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور غیر بھی باوجود کوشش کے اس میں کسی قسم کی تحریف تلاش نہیں کر سکے۔چودہ سو سال سے وہ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جمع کر کے مسلمانوں کو ہوشیار کیا ہے کہ یہ قصے کہانیاں نہیں، تمہاری حالت بھی پہلی قوموں جیسی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ( یونس: 18) کہ مجرم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے تسلی دلا دی ہے کہ بے شک جھوٹے دعویدار ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اور کامیابی کا معیار کیا ہے؟ یہ ہے کہ اپنی تعلیم اور بعثت کے مقصد کو وہ دنیا میں پھیلا نہیں سکتے جس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے پھیلاتے ہیں۔بے شک ان کی چھوٹی سی جماعت بھی بن سکتی ہے۔ان کے پاس دولت بھی جمع ہوسکتی ہے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دعویدار ہو کر آتا ہے وہ ایک روحانی مقصد کو لے کر آتا ہے۔انبیاء آئے تو وہ یا نئی شریعت لے کر آئے تا کہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کریں اور انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کریں یا پرانی تعلیم کی تجدید کیلئے آئے تا کہ بھٹکے ہوؤں کو پھر سے اس تعلیم کے مطابق جو شرعی نبی لائے تھے خدا تعالیٰ کے قریب کریں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کا بنیادی معیار ہے۔اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے لیکن یہ دو مقصد حاصل نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ پر افتراء باندھ رہا ہے۔اگر وہ لوگوں میں روحانی انقلاب پیدا نہیں کر رہا اگر وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف راہنمائی نہیں کر رہا، ان میں ایک انقلاب پیدا نہیں کر رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غلط ہے۔