تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 76
76 آج کے دور میں پیش نہیں کی جاسکتی۔بلکہ آپ کی تفاسیر ہی ہیں جو اب ہر تفسیر پر حاوی ہیں۔قرآن کریم کے ذکر ہونے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے۔اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے۔قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے۔حلم ہے، ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے ،غضب ہے، قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا جیسے فی کتاب مكْنُونِ (الواقعہ: 79)۔یعنی صحیفہ فطرت نے کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اس طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس ٹور قلب کو جو آسمانی 66 ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلا دے۔(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ء صفحہ 94 طبع اول۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 770 مطبوعہ ربوہ ) یعنی یہ ذکر پڑھو قرآن کریم تو جو پاک فطرت ہیں ان کے دل کا جو نور ہے اس کو یہ نکال کر باہر رکھتا ہے ان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ یہ احکامات ہیں، یہ تعلیم ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، یہ بندوں کے حقوق ہیں جو تم نے ادا کرنے ہیں۔) قرآن کریم پر عمل ہی حقیقی روشنی کا فائدہ دیتا ہے پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہلاکت ہے ان پر جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سخت ہیں یہ لوگ ان لوگوں کی طرح نہیں ہو سکتے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ یہ ذکر جو قرآن شریف کی صورت