تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 90
90 طریقوں کو سکھاتی ہے اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفات الہیہ کے مخالف اور قانون قدرت اور صحیفہ فطرت کے منافی ہیں اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی علیہ السلام کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیشگوئیوں سے نہایت درجہ کے اسرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی سلائی یہ تم کی ایک ایسی صورت کھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افتراء سے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعاً چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔اس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے مواقع جو اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدد بھیجا۔مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجدد کا نام خدمات مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔پس جس شخص کو یہ اصلاح سپرد ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے۔پس سوچو کہ یکسر الصلیب کی خدمت کس کو سپرد ہے۔اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے“۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۸۸ تا۲۹۰) جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ آج چرچ نے جو اعتراض کئے ہیں یہ پرانے اعتراض ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود نے اپنے اس اقتباس میں سو سال پہلے ہی بیان کر دیا تھا۔وہ اعتراض تقریباً اس سے ملتے جلتے ہیں جو اس چرچ نے کئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود کے مقابل پر کوئی نہیں ٹھہر سکا۔افسوس کہ حضرت مسیح موعود کے