تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 89
89 ہوا ہے۔جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر ( عقل کے مطابق کر کے یا عقلی دلیلوں کے ساتھ ) خدا کی پاک کلام کو کو تہ اندلیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔چوتھے: روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہرا یک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔فرماتے ہیں کہ سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے ( قرآن کریم کی پیشگوئی کہ میں نے یہ کتاب اتاری اور میں اس کی حفاظت کروں گا۔) فرمایا اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمایت نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رو سے حملہ کیا تھا اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے کہ جب سے قرآن شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطرناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے۔بد بخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیریں شائع کیں۔بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور ترجموں کے بہانے سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا اور بہتوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اکثر جگہ میں علوم عقلیہ اور مسائل مسلمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے۔( بعض ایسے ثابت شدہ مسائل جو طبعیات اور ہیئت دانوں کے ہیں اس کے مخالف ہیں)۔فرمایا اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے برعکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور نا انصافی کے