خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 595
595 کوئی منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ضمناً یہ بتادوں کہ گو میں مشرقی افریقہ کے تین ملکوں کا دورہ کر کے آیا ہوں اور وہاں اندرون ملک غریب جماعتوں تک پہنچنے کی کوشش بھی کی ہے۔لیکن بعض دوسرے ممالک مثلاً ایتھوپیا، صومالیہ، برونڈی، کانگو ، موزمبیق، زیمبیا، زمبابوے وغیرہ کے لوگ بھی وفود کی شکل میں آئے ہوئے تھے اور ان سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔بعض لوگ تو سفر کی سہولتیں نہ ہونے اور کچی سڑکیں ہونے کے باوجود دو اڑھائی ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے اور غربت کے باوجود اپنے خرچ کر کے آئے تھے۔ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔دنیاوی لیڈروں اور بادشاہوں کے لئے بھی لوگ جمع ہو جاتے ہیں لیکن بعض جگہ ان کو گھیر کے لایا جاتا ہے۔پاکستان وغیرہ میں تو اکثر اسی طرح ہوتا ہے، لے کر آجاتے ہیں اور جانے کے لئے پھر بیچاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن وہ اپنے ملک کے لوگ ہیں ان کے لئے اکٹھے بھی کر لیتے ہیں۔لیکن ایک ایسا شخص جو نہ ان کی قوم کا ہے، نہ ان کی زبان جانتا ہے ، نہ اور کوئی چیز کا من ہے اگر مشترک ہے تو ایک چیز کہ وہ احمدی ہیں اور خلافت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔تو اسی لئے وہ اس قدر تردد کر کے آئے تھے اور یقیناً ان کو خلافت سے اور حضرت مسیح موعود سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کی وجہ سے انہوں نے یہ اتنی تکلیفیں اٹھا ئیں۔پس جب تک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ان تمام نعمتوں سے حصہ لیتی رہے گی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود نے ہمیں جن کے بارہ میں بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر احمدی کو اخلاص و وفا اور اعمال صالحہ میں بڑھاتا چلا جائے اور ہمیشہ وہ خلافت سے جڑے رہیں۔( الفضل 5 جولائی 2005 ء ) دعاؤں کی تشریح جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 ء کے اختتامی خطاب میں حضور نے ان مقررہ دعاؤں کی تفصیل شرح و بسط سے بیان کی اور فرمایا:۔پس خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں داخل ہونے کے لئے بھی خالصتاً اس کا ہو کر دعاؤں میں وقت