خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 46 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 46

46 جو طاقتور ہیں، تندرست ہیں ان کے لئے سفر میں رمضان کے روزے جائز نہیں۔نفلی روزے جائز ہیں کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جب مسافر کے لئے فرض روزے منع ہو گئے تو بھی بعض صحابہ شفر اورلڑائیوں میں نفلی روزے رکھ لیتے۔ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں گزار و اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔احمدیوں نے جو ہمیشہ فتنوں اور آزمائشوں کے ایام میں اس روحانی مجاہدہ کے خوشکن اثرات و نتائج کو آزماتے آرہے تھے اس تحریک پر بھی والہانہ لبیک کہا۔تاریخ احمدیت جلد 15 ص 421 ) تحریک ادا ئیگی حج سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے فریضہ حج کی بجا آوری کے لئے پر زور تحریک کی۔چنانچہ خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1952ء کے دوران فرمایا یہ عید اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ کر ہمارے اندر بھی حج کرنے کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔جہاں اپنے بعض بھائیوں کو حج نصیب ہونے کی خبر سن کر ہم خوش ہوتے ہیں وہاں ساتھ ہی ہمیں یہ خیال بھی کرنا چاہئے کہ ہم کیوں حج نہ کریں؟ ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہمیں بھی حج کا موقعہ دے مگر افسوس کہ حج کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی ہے بہت کم لوگ ہیں جو حج کے لئے جاتے ہیں۔“ یہ عید اس لئے آتی ہے تا ہمارے دلوں کو بیدار کرے اور ہمیں ہمارا فرض یاد دلائے عید ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حج کی عبادت تم پر بھی فرض ہے جس طرح نماز ایک ضروری فریضہ ہے جس طرح زکوۃ ایک ضروری فریضہ ہے، جس طرح روزے ایک ضروری فریضہ ہیں۔اسی طرح حج بھی ایک ضروری فریضہ ہے لیکن افسوس کہ نہ غیر احمدیوں میں اس فریضہ کا صحیح احساس پایا جاتا ہے اور نہ احمد یوں کو اس کا پورا احساس ہے۔غیر احمدیوں میں تو یہ لطیفہ ہوتا ہے۔ان کے خطوط آتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے حج کیوں نہیں کیا ؟ پھر ان کے پہلے خلیفہ نے بھی حج نہیں کیا اور آپ نے بھی حج نہیں کیا حالانکہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے نہ صرف حج کیا تھا بلکہ دوسال کے قریب پ مکہ مکرمہ میں رہے اور میں نے بھی حج کیا ہے۔حضرت مسیح موعود کی صحت اس قابل نہیں تھی کہ