خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 47
47 آپ سفر کرتے اور پھر آپ کے لئے رستہ میں امن بھی نہیں تھا۔اس لئے آپ نے حج نہیں کیا لیکن آپ کی طرف سے ہم نے حج بدل کروادیا تھا۔اب اس عید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دلوں میں حج کی عظمت پیدا کرو اور زیادہ سے زیادہ حج کے لئے جاؤ تا کہ حج کی غرض پوری ہو اور حج سے جو خدا تعالیٰ کا منشاء ہے وہ پورا ہو۔الفضل 3 اکتوبر 1952 ء ) سندھ کے ایک احمدی دوست نے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں تجویز بھجوائی کہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ایک فنڈ قائم کرے جس میں زیادہ سے زیادہ خدام شامل ہوں جو ایک روپیہ سالا نہ چندہ ادا کریں۔اس طرح جو ر قم جمع ہو اس سے ہر سال کم از کم ایک احمدی کو حج بیت اللہ کرایا جائے۔حضور نے اس تجویز پر اظہار خوشنودی کیا اور فرمایا کہ فی الحال یہ تحریک کی جائے کہ جو شخص چھ سو روپیہ خود ادا کرے اسے اس فنڈ سے مزید چھ سوروپے دے دیئے جائیں گے تا کہ وہ حج کر کے آسکے۔اس ارشاد مبارک کی تکمیل میں سال 1954 ء کے شروع میں حج فنڈ مجلس خدام الاحمدیہ کی مد امانت کھول دی گئی۔اس مبارک تحریک کی بدولت متعدد احمدیوں کو فریضہ حج بجالانے کی توفیق ملی۔احیاء سنت کی تحریک الفضل 8 جنوری 1954 ء ) سالانہ جلسہ 1937ء پر سید نا محمود نے سالانہ جلسہ پر جمع ہونے والے احمدیوں کو احیاء سنت کے لئے سرگرم ہونے کا حکم دیتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ احمدیت کے ذریعہ مستقبل میں عالمگیر اسلامی انقلاب برپا ہونا مقدر ہے اور دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں احمدیوں کو عطا ہونے والی ہیں۔ی عظیم الشان بشارت حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی 28 دسمبر 1938ء کی معرکۃ الآراء اور اپنے اندر الہامی رنگ رکھنے والی پر شوکت تقریر کے آخر میں سنائی جو انقلاب حقیقی کے اہم موضوع پر تھی اور جس کے ابتداء میں حضور نے دنیا کی مشہور تمدنی اور مذہبی تحریکات کی خصوصیات پر بالتفصیل روشنی ڈالنے کے بعد اعلان فرمایا۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور احیاء سنت و شریعت کے لئے