خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 45 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 45

45 فقرے کثرت سے پڑھیں ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔(الفضل 23 نومبر 1956 ء ص 3) نفلی روزے حضرت مصلح موعودؓ نے فرض روزوں کے علاوہ متعدد بار نفلی روزوں کی تحریک فرمائی۔چنانچہ 1929ء، 1930ء میں دشمن کی شرارتوں اور اذیت رسانی کے مقابل پر انسانی عدالتوں کی بجائے حضور نے خدائے قدوس کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرنے کی یہ ہدایت فرمائی۔آپ نے مجلس مشاورت 1929ء میں فرمایا کہ: رسول کریم کی عادت تھی کہ ہفتہ میں دو روز پیر اور جمعرات کے دن روزے رکھا کرتے تھے۔ہماری جماعت کے وہ احباب جن کے دل میں اس فتنہ نے درد پیدا کیا ہے اور جو اس کا انسداد چاہتے ہیں۔اگر روزے رکھ سکیں تو 28 اپریل 1930 ء سے تمیں دن تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعاؤں میں خاص طور پر مشغول رہیں کہ خدا تعالیٰ فتنہ دور کر دے اور ہم پر اپنا خاص فضل اور نصرت نازل کرے اور جو دوست یہ مجاہدہ مکمل کرنا چاہیں وہ چالیس روز تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعا کریں۔الفضل 23 اپریل 1930ء میں 2 کالم 4,3) چنانچہ جماعت کے دوستوں نے حضور کی تحریک پر روزے رکھے اور تضرع سے دعائیں کیں آخر خدائی عدالت نے اپنے بندوں کے حق میں ڈگری دے دی یعنی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ فتنہ پردازوں کے دلوں میں حکومت کی مخالفت کا جوش پیدا ہو گیا۔جس کی وجہ سے وہ سب پکڑے گئے باقی وہ رہ گئے جو بالکل کم حیثیت اور ذلیل اور ذلیل لوگ تھے۔اصل وہی تھے جن کی شہ پر انہیں شرارت کی جرات ہوتی تھی اور وہ گرفتار ہو گئے ان کے علاوہ وہ اخبار جو جماعت کے خلاف گندا چھالتے تھے یا تو وہ بند ہو گئے۔یا پر لیس آرڈی نینس کے خوف کی وجہ سے اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوئے۔الفضل 12 جون 1930 ، صفحہ 5 کالم (3) اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ نے سالانہ جلسہ 1952ء پر ارشاد فرمایا کہ احمدی 1953ء کے شروع میں سات نفلی روزے رکھیں اور ہر روزہ سوموار کو رکھا جائے۔حضور نے سال کے پہلے خطبہ میں اس کی یاد دہانی کرائی اور نصیحت فرمائی کہ :