خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 298
298 اس سلسلہ میں ملک فضل حسین صاحب نے مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج تصنیف کی جس نے ان کمیشنوں کی بہت مدد کی۔حضور گانسی کمیشن کے مسودہ پر نظر ثانی کر کے مفید مشورے عطا فرماتے رہے۔شاندار فتح 12 نومبر 1931ء مہا راجہ نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق دینے کا اعلان جاری کیا جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی پہلی شاندار فتح تھی۔مہاراجہ نے پتھر مسجد واگزار کردی جس میں 50 ہزار مسلمانوں کا جلسہ ہوا اور حضور کا شکر یہ ادا کیا گیا زعمائے کشمیر نے وزیر آباد میں حضور سے ملاقات کی اور مشورے لئے۔1932 فروری: قادیان میں گریجوایٹ، مولوی فاضل اور کم تعلیم کے لوگوں کو آنریری خدمات کے لئے تحریک کی گئی۔سینکڑوں احمدیوں نے اپنے آپ کو حاضر کر دیا۔فسادات کشمیر کی ذمہ داری وزیر اعظم ہری کشن کول پر تھی اس لئے حضور نے ان کی برطرفی کی کوشش کی۔چنانچہ فروری 1932ء میں ان کی جگہ مسٹر کالون وزیر اعظم مقرر کر دیئے گئے۔23 / اپریل کو کشمیر کمیٹی کے وفد نے ان سے ملاقات کی۔10 راپریل : گلانسی کمیشن نے مسلمانوں کے اکثر حقوق و مطالبات کے حق میں سفارش کر دی اور ریاست میں مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔حضور نے اس پر مفصل تبصرہ شائع کیا اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو کشمیر کے دورہ پر بھجوایا۔حکومت کشمیر نے 1210 افراد پر مقدمات بنائے تھے۔حضور کی تحریک پر 18 کے قریب احمدی وکلاء نے بے لوث خدمات پیش کیں۔جس کے نتیجہ میں 1070 کے قریب بری ہو گئے اور 140 کو بہت معمولی سزائیں ہوئیں۔27 مئی 1932 ء حضور نے اہل کشمیر کے نام ایک مطبوعہ خط میں کشمیری مسلمانوں کی انجمن بنانے کی تحریک فرمائی۔چنانچہ حضور کے نمائندوں کی کوششوں سے مسلم کانفرنس کا پہلا اجلاس 15 تا 19 اکتوبر