خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 297
شروع کیا۔297 یوم کشمیر 14 اگست 1931ء: آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق پورے ہندوستان میں یوم کشمیر منایا گیا۔قادیان میں بھی جلوس نکالا گیا اور جلسہ منعقد کیا گیا۔جموں کے ایک جلسہ میں گولی چلا دی گئی اور مساجد پر حکومت نے قبضہ کر لیا جس پر حضور نے مہاراجہ کو فوری تار دیا۔نیز فوٹو گرافر بھیج کر تصاویر لی گئیں۔حضور کی ہدایت پر کشمیر کے متعلق عالمی پروپیگنڈہ کا آغاز ہوا۔چنانچہ برطانیہ، امریکہ ، سماٹرا، جاوا، مصر و شام میں خاص مہم شروع کی گئی۔13 ستمبر سیالکوٹ میں کشمیر کمیٹی کے اجلاس کے بعد جلسہ عام سے حضور نے خطاب فرمایا۔اس جلسہ پر سنگباری بھی کی گئی لیکن حضور نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔مظلومین ریاست کی طبی اور قانونی امداد کے لئے حضور نے متعدد وفد بھیجے۔پہلا وفد 14 اگست سے قبل کشمیر پہنچ گیا۔جو ایک وکیل اور کئی ڈاکٹروں پر مشتمل تھا۔21 ستمبر: شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو حکومت نے گرفتار کر لیا اور احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس نے گولی چلا دی۔یہ تمام واقعات الفضل 29 ستمبر میں شائع کر دیئے گئے۔26 ستمبر کو ریاست نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔اس موقع پر حضور نے مسلسل قربانیوں کی پُر جوش تحریک فرمائی۔راکتو بر حضور کی کوششوں سے مہاراجہ نے شیخ محمدعبداللہ صاحب کو رہا کر دیا۔مارشل لاء ختم کر اور مسلمانوں کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا۔شمیری لیڈروں نے حضور کے مشورہ سے مطالبات کا مسودہ تیار کیا جو 19 اکتوبر کو مہا راجہ کو پیش کیا گیا۔نومبر : حضور نے مہاراجہ سے اپیل کی کہ فسادات کی تحقیقات کے لئے آزاد کمیشن مقرر کیا جائے۔11 نومبر: مہاراجہ نے مڈلٹن کمیشن اور گلاسی کمیشن مقرر کئے۔جس کے سامنے کیس پیش کرنے کے لئے حضور کے ارشاد پر متعد داحمدیوں نے نہایت قیمتی قانونی خدمات فراہم کیں۔