خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 259 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 259

259 ہاتھ کے کام میں سڑکوں کی صفائی، بوجھ اٹھانا، سٹیشنوں پر پانی پلانا محتاجوں کا سامان اٹھانا، تکفین و تدفین میں مدد وغیرہ شامل ہیں۔( تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد 1 ص 16,15) اس لحاظ سے خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہونے والی خدمت خلق تاریخ احمدیت کا زریں باب ہے۔نیز یہی پہلو جماعت کی مرکزی اور دیگر ذیلی تنظیموں کے نصب العین کا مرکزی حصہ ہے۔ذیل میں خلافت ثانیہ کی خدمت خلق کے حوالے سے چندا ہم تحریکات درج ہیں۔انفلوئنزا کی عالمگیر و با میں خدمت کی تحریک 1918ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوئنزا کی صورت میں ظاہر ہوا۔اس وبا نے گویا ساری دنیا میں اس تباہی سے زیادہ تباہی پھیلا دی۔جو میدان جنگ میں پھیلا ئی تھی۔ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔اگر چہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہر طرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہو گیا۔ان ایام میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں اور مذہب وملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی تیمار داری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کر کے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی اور تمام رضا کاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غربا کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خور و نوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا ان ایام میں احمدی والینٹیئر جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے ) صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہو گئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمار رضا کا رہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضا کار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہو گئے۔انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو مقدم کیا۔یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمت کا اقرار کیا اور تقریر وتحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی تندہی و جانفشانی سے کام کر کے بہت اچھا نمونہ قائم کر دیا ہے۔( سلسلہ احمدیہ ص 358)