خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 258
258 خدمت خلق سے متعلق تحریکات جماعت احمدیہ کے پروگراموں میں خدمت خلق کا نہایت بلند مقام ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعود بار بار مخلوق کی بے لوث خدمت کی تلقین کرتے رہے مگر اس کا ایک نمایاں موڑ اس وقت آیا جب آپ نے 1938ء میں احمدی نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ قائم کی اور ان کے دلوں میں یہ بات راسخ کی کہ تم انسانیت کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور یہ خدمت روحانی امور سے بھی تعلق رکھتی ہے اور عام جسمانی اور مادی معاملات سے بھی۔اس تنظیم کے لائحہ عمل میں آپ نے خدمت خلق اور اس کی ذیل میں وقار عمل کا شعبہ قائم کیا جو ایک منتظم طور پر ساتھ بے لوث اجتماعی خدمت کا منفر دادارہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ 17 فروری 1939 ء میں فرمایا: خدام الاحمدیہ کے اساسی اصول میں خدمت خلق بھی شامل ہے“۔(الفضل 15 مارچ 1939 ء ) خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1942ء میں فرمایا:۔ہماری جماعت کے خدام الاحمدیہ دوسری تمام اقوام کے نوجوانوں سے زیادہ نمایاں حصہ خدمت خلق میں لیں“۔(الفضل 17 ستمبر 1942 ء ) چنانچہ حضور کے خطبات کی روشنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کا جو ابتدائی پروگرام مرتب ہوا اس میں یہ امور بھی شامل تھے۔خدمت خلق کے کام کرنا۔خدمت خلق میں یہ ضروری نہیں کہ صرف مسلمان غریبوں، مسکینوں یا بیواؤں کی خبر گیری کی جائے۔بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیروکسی دکھ میں مبتلا ہے تو اس دکھ کو دور کرنے میں حصہ لیا جائے۔کہیں جلسے ہوں تو اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کیا جائے اور اس طرح اپنی زندگی کو کارآمد بنایا جائے۔ہر ممبر کے لئے ضروری ہوگا کہ کم از کم نصف گھنٹہ روزانہ مجلس کے مقرر کردہ پروگرام کے مطابق خدمت خلق کے لئے وقف کرے۔سارے ممبر ایک جگہ جمع ہو کر کام کریں۔اگر مجلس کو ضرورت پیش آئے تو ہر ممبر کم از کم دس دن سال میں اکٹھے وقف کرے۔