خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 260 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 260

260 لاوارث عورتوں اور بچوں کی خبر گیری کے لئے تحریک حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جولائی 1927ء میں آریوں کے ایک خطرناک منصو بہ کا انکشاف کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ شدھی کا زور جب سے شروع ہوا ہے ہندو صاحبان کی طرف سے مختلف سٹیشنوں پر آدمی مقرر ہیں جو عورتوں اور بچوں کو جو کسی بد قسمتی کی وجہ سے علیحدہ سفر کر رہے ہوں بہکا کر لے جاتے ہیں اور انہیں شدھ کر لیتے ہیں اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ ہر بڑے شہر میں لاوارث عورتوں اور بچوں کے لئے ایک جگہ مقرر ہونی چاہئے جہاں وہ رکھے جائیں نیز دہلی والوں کو اس کے انتظام کی طرف خاص توجہ دلائی اور فرمایا: یا درکھنا چاہئے کہ قطرہ قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔ایک ایک آدمی نکلنا شروع ہو تو بھی کچھ عرصہ میں ہزاروں تک تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی نسلوں کو مد نظر رکھا جائے تو لاکھوں کروڑوں کا نقصان نظر آتا ہے پس اس نقصان کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے“۔الفضل 19 جولائی 1927ء ص 2,1) چنانچہ انجمن محافظ اوقاف دہلی نے یہ اہم فرض اپنے ذمہ لیا اور اس کے لئے پانچ معزز ارکان کی کمیٹی قائم کر دی۔قادیان میں یوم سرحد صوبہ سرحد کے سرخ پوش مسلمانوں پر حکومت کی سخت گیر پالیسی اور تشدد نے ایک قیامت کی بپا کر دی تھی اس ظلم وستم کے خلاف احتجاج کے طور پر ( آل انڈیا مسلم کانفرنس دہلی کے فیصلہ کے مطابق ) 5 فروری 1932 ء کو ملک کے دوسرے شہروں کی طرح قادیان میں بھی یوم سرحد کے سلسلہ میں ایک عام جلسہ منعقد کیا گیا اور مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کرنے اور حکومت سے اس کا ازالہ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔(الفضل 11 فروری 1932ء) جلسہ سے قبل سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بھی خطبہ جمعہ میں مظالم سرحد کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا کہ صوبہ سرحد میں معلوم ہوا کہ بعض افسروں نے بہت زیادتیاں کی ہیں۔۔۔ہمارے خیال کے۔۔۔۔۔۔مطابق سرخ پوش تحریک جائز نہیں مگر پھر بھی وہاں کے مظلوموں کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے۔