خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 253
253 گئیں۔اس دوران میں مجلس کا کام یہ تھا کہ اس کے ارکان قرآن و حدیث، تاریخ ، فقہ اور احمدیت و اسلام کے متعلق کتب دینیہ کا مطالعہ کرتے اور مخالف احمدیت و خلافت فتنوں کے جواب میں تحقیق و تدقیق کرتے۔ان دنوں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا فتنہ بر پا تھا۔چنانچہ مجلس نے یکے بعد دیگرے دو ٹریکٹ شیخ مصری صاحب کے اشتہاروں کے رد میں لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔پہلا ٹریکٹ شیخ مصری صاحب کا صحیح طریق فیصلہ سے فرار کے عنوان سے شائع ہوا۔دوسرے کا عنوان ”روحانی خلفاء کبھی معزول نہیں ہو سکتے“ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارکان مجلس کی ان ابتدائی علمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنا ئیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنات اماءاللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نو جوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔قادیان میں بعض نو جوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کر دی ہے۔میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہو چکی ہیں ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے تا انہیں خود کام کرنے کا موقع ملے ہاں دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے تا انہیں خود کام کرنے کی مشق ہو اور قومی کاموں کو سمجھ سکیں اور انہیں سنبھال سکیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے جو کام کیا ہے اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے۔شروع میں وہ بہت گھبرائے انہوں نے ادھر ادھر سے کتابیں لیں اور پڑھیں اور لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں۔مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہو گئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے“۔(الفضل 10 / اپریل 1938ء) اپریل 1938ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسلسل خطبات کے ذریعہ قادیان اور باہر کی جماعتوں میں اس مجلس کے قیام کا ارشاد فرمایا۔قبل ازیں مجلس کا کام صرف علمی حد تک تھا۔مگر اب اس کا پروگرام مندرجہ ذیل تجویز ہوا۔1۔اپنے ہاتھ سے روزانہ اجتماعی صورت میں آدھ گھنٹہ کام کرنا۔2۔درس و تدریس