خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 252
252 خدام الاحمدیہ کے قیام کی بنیادی غرض : حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ کی تاسیس کے زمانہ میں واضح لفظوں میں اس کی غرض و غایت یہ بیان فرما دی تھی :۔” میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسل دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے۔آج وہ ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولادوں کے دلوں میں دفن ہو اور پرسوں ان کی اولادوں کے دلوں میں۔یہاں تک کہ یہ علیم ہم سے وابستہ ہو جائے۔ہمارے دلوں کے ساتھ چمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کرے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔اگر ایک یا دو نسلوں تک یہ تعلیم محد و در ہی تو کبھی ایسا پختہ رنگ نہ دے گی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔(الفضل 17 فروری 1939ء) مختصر تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی مخصر تاریخ یہ ہے کہ 31 جنوری 1938ء کو حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی خصوصی اجازت اور شیخ محبوب عالم صاحب ایم اے کی دعوت پر قادیان کے مندرجہ ذیل دس نوجوان ان کے مکان ( متصل بورڈنگ مدرسہ احمدیہ ) پر جمع ہوئے۔1 - مولوی قمرالدین صاحب۔2۔حافظ بشیر احمد صاحب۔3۔مولانا ظہور حسین صاحب۔4 - مولوی غلام احمد صاحب فرخ۔5۔مولوی محمد صدیق صاحب۔6۔سید احمد علی شاہ صاحب۔7۔حافظ قدرت اللہ صاحب۔8 مولوی محمد یوسف صاحب۔9۔مولوی محمد احمد صاحب جلیل۔10۔چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ان احباب نے صدارت کے لئے مولوی قمر الدین صاحب کا اور سیکرٹری کے لئے شیخ محبوب عالم صاحب خالد کا انتخاب کیا۔ان نوجوانوں نے خدا تعالیٰ کے فضل ونصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے تائید خلافت میں کوشاں رہنے اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہونے کا عزم کیا۔اس مجلس کی بنیاد چونکہ حضرت مصلح موعودؓ کی اجازت سے رکھی جا رہی تھی۔اس لئے حضور ہی سے اس کا نام رکھنے کی درخواست کی گئی۔حضور نے 4 فروری 1938ء کو اس تنظیم کو "مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے موسوم فرمایا اور فروری اور مارچ میں قادیان کے مختلف حلقوں میں اس کی شاخیں قائم کر دی