خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 254 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 254

254 3 - تلقین پابندی نماز 4۔بیوگان ، معذوروں اور مریضوں کی خبر گیری 5 - تلفين و تد فین اور تقاریب میں امدا د وغیرہ اس بنیادی پروگرام کے ساتھ ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے نو جوانوں کو انسداد آوارہ گردی اور فریضہ دعوت الی اللہ کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ فرمایا۔ان ابتدائی مراحل سے گزرنے کے بعد بالآخر خدام الاحمدیہ کا مستقل لائحہ عمل حسب ذیل قرار پایا اور اسی کے مطابق مجلس کا کام بھی مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔1۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تنظیم 2۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں میں قومی روح اور ایثار پیدا کرنا 3۔دینی تعلیم کی ترویج واشاعت 4۔نوجوانوں میں ہاتھ سے کام کرنے اور صاف ماحول میں رہنے کی عادت پیدا کرنا 5۔نوجوانوں میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کی کوشش کرنا 6۔نوجوانوں کی ذہانت کو تیز کرنا 7۔نوجوانوں کو قومی بوجھ اٹھانے کے قابل بنانے کے لئے ان کی ورزش جسمانی کا اہتمام 8 نوجوانوں کو دینی اخلاق میں رنگین کرنا ( مثلاً سچ، دیانت اور پابندی نماز وغیرہ) 9۔قوم کے بچوں کی اس رنگ میں تربیت اور نگرانی کہ ان کی آئندہ زندگیاں قوم کے لئے مفید ثابت ہوسکیں۔10۔نوجوانوں کو سلسلہ کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے کی ترغیب و تحریص۔11۔نوجوانوں میں خدمت خلق کا جذبہ 12 - نوجوانان سلسلہ کی بہتری کے لئے حتی الوسع ہر مفید بات کو جامہ عمل پہنانا۔مجلس خدام الاحمدیہ 70 سال گزرنے کے بعد دینی خدمت کے جوش و ولولہ سے بھرے ہوئے نو جوانوں کی عالمی تنظیم ہے جس کا ایک بھر پور اور جامع دستور اور لائحہ عمل ہے۔یہ تنظیم جماعت احمدیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کا ماٹو ہے۔