خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 168
168 چندہ تعمیر مساجد کا مستقل نظام اسی موقع پر حضور نے تعمیر مساجد کے چندہ کی فراہمی کے لئے ایک مستقل نظام تجویز فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ (1) ملازم پیشہ اپنی سالانہ ترقی کے پہلے ماہ کی رقم (2) بڑے پیشہ ور ایک مہینے کی آمد کا پانچواں حصہ (3) چھوٹے پیشہ ور مہینے کی کسی معینہ تاریخ کی مزدوری کا دسواں حصہ (4) تاجر اصحاب مہینہ کے پہلے سودا کا منافع اس مد میں دیا کریں اور (5) زمیندار احباب ہر فصل پر ایکڑ زمین میں سے ایک کرم کے برابر چندہ تعمیر مساجد ادا کیا کریں۔مندرجہ بالا طبقوں کے نمائندوں نے خلیفہ وقت کے سامنے بشاشت کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ مجوزہ نظام کے مطابق بالالتزام چندہ دیا کریں گے۔اس موقعہ پر سیالکوٹ کے ایک تاجر دوست خواجہ محمد یعقوب صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک سو روپیہ اس فنڈ کے لئے پیش کیا جس پر حضور کی خدمت با برکت میں نقدی پیش کرنے کی ایک عام رو پیدا ہوگی۔حضور کے اردگرد اتنا ہجوم ہو گیا کہ نظم وضبط کی خاطر انہیں قطاروں میں کھڑا کرنا پڑا، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے چار ہزار سے زائد روپیہ نقد اور ایک ہزار روپیہ سے زائد کے وعدے وصول ہو گئے۔خواتین کی طرف سے 90/6/0 نقد کے علاوہ دو طلائی انگوٹھیاں بھی بطور چندہ حضور کی خدمت میں پیش ہوئیں۔چندہ دینے کا یہ سلسلہ ابھی پورے جوش و خروش سے جاری تھا کہ حضور نے مجلس کی کارروائی کی خاطر ا سے روک دینے کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا کہ مسجد فنڈ کے مزید چندے اور وعدے بعد میں دیئے جائیں۔(الفضل 17 اپریل 1952ء) سب سے پہلے احمدی تاجر جنہوں نے مشاورت کے معا بعد اس مالی جہاد میں حصہ لیا اور ڈھائی سو روپیہ اس مد میں بھجوایا۔حضرت شیخ کریم بخش صاحب آف کوئٹہ کے فرزند شیخ محمد اقبال صاحب ہیں جن کا ذکر خصوصی خود حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ 26 مئی 1951 ء میں فرمایا:۔حضور کی اس سکیم کے تحت اپریل 1965 ء تک سات لاکھ تریپن ہزار ایک سو تین روپے کی آمد ہوئی مساجد واشنگٹن، ہیگ (ہالینڈ)، ہیمبرگ (جرمنی)، فرینکفورٹ (جرمنی)، زیورک (سوئٹزر لینڈ ) اور ڈنمارک کی خصوصی تحریکوں کے نتیجہ میں نولاکھ سولہ ہزار سات سو چھہتر روپے وصول ہوئے اور اس رقم