خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 104 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 104

104 کہانیاں اچھوتوں کی حالت زار دید شاست اور اچھوت ادھار“، ”اچھوت ادھار کی حقیقت یا ہند و اقتدار کے منصوبے (حصہ اول) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آخری کتاب مشہور اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبید کر کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا گیا۔ڈاکٹر امبید کر اس لٹریچر سے بہت متاثر تھے۔انہوں نے چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے لندن میں ایک ملاقات کے دوران میں کہا کہ اگر میں کبھی مسلمان ہوا تو احمدی جماعت میں ہی داخل ہوں گا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نے ہندوستان میں صوبہ پنجاب کے بعد بنگال کی طرف بھی توجہ فرمائی اور صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی اے کو ابتدائی سروے کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر ایک مفصل سکیم پیش کی۔جس پر وہاں بھی یہ کام ہونے لگا۔1923ء رپورٹ مجلس مشاورت 1928ء ص 201 انسداد شدھی کی تحریک ء کے دوران آریوں نے یہ سکیم تیار کی کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔اس کے لئے انہوں نے چندے جمع کئے تنظیمیں قائم کیں۔اخبارات نکالے اور پروپیگنڈا کی ایک مشینری حرکت میں آئی۔ملکانہ کے علاقہ میں چار لاکھ سے زائد ایک قوم نے ہندومت کو قبول کر لینے کے کا ارادہ ظاہر کیا۔حضور کو علم ہوا تو اس شدھی کی تحریک کا وسیع پیمانہ پر مقابلہ کرنے کے لئے ایک ز بر دست سکیم تیار کی اور آپ نے یہاں تک تہیہ کر لیا کہ ”میری کل جماعت کی جائیداد تخمیناً دو کروڑ روپیہ کی ہے۔اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک اور اموال خدا کی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے۔اس عظیم سکیم کے ماتحت کام کرنے کے لئے افراد اور اموال کی ضرورت تھی۔حضور نے اپنے خدام کو آواز دی تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں حاضر ہو گئے۔چنانچہ حضور نے 7 مارچ 1923ء کو درس القرآن سے قبل اعلان فرمایا کہ جماعت احمد یہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کی غرض سے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔(انوار العلوم جلد 7 ص 169 ) اس کے بعد 9 مارچ 1923ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ فتنہ ارتداد کے مٹانے کے لئے فی الحال