خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 103 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 103

103 سکتا ہے۔اگر غور کریں تو بہت سا فرصت کا وقت محض لغو باتوں میں بہت سے ہیں جو صرف کر دیتے ہوں گے۔وہ اسی وقت کو جو ایسی باتوں میں خرچ کرتے ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔اس دین کے علم حاصل کرنے میں لگائیں۔تو وہ بخوبی اٹھا سکتے ہیں اور ان کے کام کاج میں کچھ حرج واقع نہیں ( خطبات محمود جلد 5 ص587) ہوگا۔سکتا اچھوت اقوام میں تبلیغ کی تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ ہندوستان کی اچھوت اقوام میں تبلیغ کی جاوے۔تبلیغ کے عام فریضہ کے علاوہ آپ نے یہ بھی سوچا کہ ہندوستان میں ان قوموں کی تعداد کئی کروڑ ہے اور ہندو لوگ انہیں مفت میں اپنائے بیٹھے ہیں۔پس اگر ان قوموں میں احمدیت کی اشاعت ہو اور وہ احمدی ہو جائیں تو ان کی اپنی نجات کے علاوہ اس سے اسلام کو بھی بھاری فائدہ پہنچ ہے۔چنانچہ آپ نے اپریل 1922ء کے آغاز میں ایک سکیم کے مطابق پنجاب کی اچھوت قوموں میں تبلیغ شروع فرما دی اور ان کے لئے ایک خاص عملہ علیحدہ مقرر کر دیا۔آپ کی اس کوشش کو خدا نے جلد ہی بار آور کیا اور تھوڑے عرصہ میں ہی کافی لوگ حق کی طرف کھینچ آئے اور بہت سے مذہبی سکھ، بالیکی اور دوسرے اچھوت احمدیت میں داخل ہوئے اس رو کا سب سے بڑا زور 24-1923ء میں تھا۔جبکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ تو میں ایک انقلابی رنگ میں پلٹا کھائیں گی۔مگر اس وقت بعض خطرات محسوس کر کے یہ سلسلہ دانستہ مدہم کر دیا گیا اور انفرادی تبلیغ پر زور دیا جانے لگا اور خدا کے فضل سے اس کے اچھے نتائج پیدا ہوئے۔(سلسلہ احمدیہ ص 373) ابتداء میں یہ کام شیخ عبد الخالق کے ذریعہ سے مختصر پیمانہ پر قادیان سے شروع کیا گیا۔دواڑھائی سال میں جو اچھوت حلقہ بگوش احمدی ہوئے ان کے ذریعہ سے اردگرد کے دیہات میں جدو جہد جاری کی گئی اور پھر پورے ملک میں ان سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔1928 ء سے مکرم گیانی واحد حسین صاحب اچھوت اقوام کے طلباء کی تعلیم وتدریس کے لئے مقرر ہوئے ان کے بعد مہاشہ فضل حسین صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خاص ہدایات کے ماتحت عظیم الشان لٹریچر پیدا کیا جس سے اچھوتوں کو بیدار کرنے اور انہیں اسلام کے قریب لانے میں بھاری مدد لی اس سلسلہ میں اچھوتوں کی درد بھری