خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 105
105 ڈیڑھ سواحمدی سرفروشوں کی ضرورت ہے۔جو اپنے اور اپنے لواحقین کی معاش کا انتظام کر کے میدان عمل میں آجائیں۔چنانچہ آپ نے فتنہ ارتداد کی وسعت بیان کرتے ہوئے اور جماعت کو اپنی سکیم کے ایک حصہ سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔ہمیں اس وقت ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا یہ طریق ہو کہ اس ڈیڑھ سوکو میں تمہیں کی جماعتوں پر تقسیم کر دیا جائے اور اس کے چار حصہ میں ہیں کے بنائے جائیں اور تمیں آدمیوں کو ریز رو رکھا جائے۔کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو۔اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہوگی۔ہم ان کو ایک پیسہ بھی خرچ کے لئے نہیں دیں گے۔اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہوگا۔سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم خود انتظام کرنے لئے بھیجیں گے۔ان کو بھی جو ہم کرایہ دیں گے وہ تیسرے درجے کا ہوگا۔چاہے وہ کسی درجہ، کسی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ان لوگوں کے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے۔اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے۔البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہوگا تو ہم دیں گے۔اس کے لئے جماعت کو پچاس ہزار روپیہ دینا ہوگا۔ایسے کاموں کے لئے جو تبلیغ وغیرہ کے ہوں گے۔باقی مبلغین اسی رنگ میں جائیں گے وہاں اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے۔جو لوگ ملازمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا خود انتظام کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں۔وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ دو چارسہ ماہیوں میں سے کس سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔( خطبات محمود جلد 8 ص 37) حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے 7 اور 9 مارچ 1923ء کو جماعت سے جس عظیم الشان جانی و مالی قربانی کا مطالبہ فرمایا اس پر جماعت نے انتہائی والہانہ رنگ میں لبیک کہا اور ڈیڑھ ہزار احمدیوں نے اپنی آنریری خدمات حضور کی خدمت میں پیش کر دیں۔اس قربانی کے لئے آگے آنے والے ملازم، رؤسا، وکلاء، تاجر، زمیندار، صناع، پیشه ور مزدور، استاد، طالبعلم، انگریزی خوان ، عربی دان، بوڑھے اور جوان غرض کہ ہر طبقہ کے لوگ تھے۔حتی کہ مستورات اور بچوں تک نے اس جہاد کے لئے اپنا نام پیش کیا۔