خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 65 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 65

65 حضور نے 27 دسمبر 1927ء کو جلسہ سالانہ پر خطاب میں فرمایا :۔قرآن کریم پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ درس جاری کیا جائے۔بہت سی ٹھوکر میں لوگوں کو اس لئے لگتی ہیں کہ وہ قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے۔پس ضروری ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کیا جائے اگر روزانہ درس میں لوگ شامل نہ ہو سکیں تو ہفتہ میں تین دن سہی اگر تین دن بھی نہ آسکیں تو دو دن ہی سہی۔اگر دو دن بھی نہ آسکیں تو ایک ہی دن سہی مگر درس ضرور جاری ہونا چاہئے تا کہ قرآن کریم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ جہاں جہاں امیر مقرر ہیں وہاں وہ درس دیں۔اگر کسی جگہ کا امیر درس نہیں دے سکتا تو وہ مجھ سے اس بات کی منظوری لے کہ میں درس نہیں دے سکتا۔درس دینے کے لئے فلاں آدمی مقرر کیا جائے۔تمام امراء کو جنوری کے مہینہ کے اندراندر مجھے اطلاع دینی چاہئے کہ درس کے متعلق انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے اور درس روزانہ ہوگا یا دوسرے دن یا ہفتہ میں دو بار یا ایک بار۔میں سمجھتا ہوں درس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت راسخ ہو جائے گی اور بہت سے فتن کا آپ ہی آپ ازالہ ہو جائے گا۔تقریر دلپذی۔انوار العلوم جلد 10 ص 92 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی حضور کے ارشاد پر وسط مارچ 1928ء میں ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت سے عہدیداران جماعت کو مزید توجہ دلائی کہ جہاں جہاں ابھی تک سلسلہ درس شروع نہیں ہوا اس کی طرف فوراً توجہ دیں۔نیز گھروں میں بھی درس جاری کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمارے احباب کو چاہئے کہ علاوہ مقامی درس کے اپنے گھروں میں بھی قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود کا درس جاری کریں اور یہ درس خاندان کے بزرگ کی طرف سے دیا جانا چاہئے۔اس کے لئے بہترین وقت صبح کی نماز کے بعد کا ہے لیکن اگر وہ مناسب نہ ہو تو جس وقت بھی مناسب سمجھا جائے اس کا انتظام کیا جائے۔اس درس کے موقعہ پر گھر کے سب لوگ ، مرد، عورتیں لڑکے، لڑکیاں بلکہ گھر کی خدمت گار میں بھی شریک ہوں اور بالکل عام فہم سادہ طریق پر دیا جائے اور درس کا وقت پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ ہو ، تا کہ طبائع میں ملال نہ پیدا ہو۔اگر ممکن ہو تو کتاب کے پڑھنے کے لئے گھر کے بچوں اور ان کی ماں یا دوسری بڑی مستورات کو باری باری مقرر کیا جائے اور