خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 64
64 ہو۔ابھی تک جماعت کے بعض لوگ اس سلسلے کو محض ایک سوسائٹی کی طرح سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اگر چندہ دے دیا تو اتنا ہی ان کے لئے کافی ہے۔حالانکہ۔۔۔جب تک ہم اپنے ساتھیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں کو قرآن کریم کے پڑھانے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش نہ کریں گے اس وقت تک ہمارا قدم اس اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس مقام تک پہنچنے کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہوا کرتی ہیں۔(الفضل 9 دسمبر 1947ء ص 6,5) آپ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں بھی طلباء سے یہی کہتا ہوں کہ وہ خود غور کرنے کی عادت ڈالیں اور جو باتیں میں نے بیان کی ہیں ان کے متعلق سوچیں پھر دوسرے لوگوں میں بھی انہیں پھیلانے کی کوشش کریں۔یاد رکھو صرف کتابیں پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان میں جو کمی تمہیں نظر آتی ہے اسے دور کرنا بھی تمہارا فرض ہے مثلاً تفسیر کبیر کو ہی لے لو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کریم کا بہت کچھ علم دیا ہے لیکن کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جن کا ذکر میری تفسیر میں نہیں آیا۔اس لئے اگر تمہیں کوئی بات تفسیر میں نظر نہ آئے تو تم خود اس بارہ میں غور کرو اور سمجھ لو کہ شاید اس کا ذکر کرنا مجھے یادنہ رہا ہو اور اس وجہ سے میں نے نہ لکھی ہو یا ممکن ہے وہ میرے ذہن میں ہی نہ آئی ہو اور اس وجہ سے وہ رہ گئی ہو۔بہر حال اگر تمہیں اس میں کوئی کمی دکھائی دے تو تمہارا فرض ہے کہ تم خود قرآن کریم کی آیات پر غور کرو اور ان اعتراضات کو دور کرو۔جوان پر وارد ہونے والے ہیں“۔مشعل راه جلد اول ص 750) کلاسز اور درس کی تحریک آپ نے ذیلی تنظیموں کو بار بار تعلیم القرآن کلاسز لگانے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ 1945ء میں مجلس خدام الاحمدیہ اور نظارت تعلیم و تربیت کے اشتراک سے پہلی تعلیم القرآن کلاس شروع کی گئی جو ایک ماہ جاری رہی اور 86 نمائندگان نے شرکت کی۔( الفضل 8 ستمبر 1945ء) خلافت ثانیہ میں ہی نظارت اصلاح وارشاد کے تحت تعلیم القرآن کلاس کا 1964ء میں آغاز ہوا جو کامیابی سے مسلسل جاری ہے۔بعد میں خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام سالانہ تربیتی کلاس کا آغاز ہوا جس میں اب ایک ہزار کے قریب طلباء حصہ لیتے ہیں۔