خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 66 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 66

66 اس کی تشریح یا ترجمہ وغیرہ گھر کے بزرگ کی طرف سے ہو میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس قسم کے خانگی درس ہماری جماعت کے گھروں میں جاری ہو جائیں تو علاوہ علمی ترقی کے یہ سلسلہ اخلاق اور روحانیت کی الفضل 16 مارچ 1928ء ص 2) اصلاح کے لئے بھی بہت مفید و با برکت ہوسکتا ہے۔حضور نے خطبہ جمعہ 26 جنوری 1934ء بمقام لاہور فرمایا:۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قرآن کو اخلاص سے پڑھیں ہر جماعت کو چاہئے کہ درس جاری کرے۔بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی خود نہیں سمجھ سکتے اس لئے ابتداء انہیں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو درس سے حاصل ہو سکتا ہے۔یا اگر مسجد ، ہوٹل یا جو دوست دور دور رہتے ہیں وہ محلہ وار جمع ہو کر درس کا انتظام کریں اور جن کے لئے محلہ وار جمع ہونا بھی مشکل ہو وہ گھر میں ہی درس دے لیا کریں تو جماعت میں تھوڑے ہی دنوں کے اندر علوم کے دریا بہہ جائیں۔درس کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تفاسیر کو مدنظر رکھا جائے۔آپ نے اگر چہ کوئی با قاعدہ تفسیر تو نہیں لکھی مگر تفسیر کے اصول ایسے بتا دیئے ہیں کہ قرآن کو ان کی مدد سے سمجھنا بہت آسان ( خطبات محمود دجلد 15 ص 33) ہو گیا ہے۔جہاد بالقرآن کی اہم تحریک سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثانی نے جولا ئی 1928ء کے پہلے ہفتہ میں مسلمانان عالم کو اس طرف توجہ دلائی کہ ترقی و سربلندی کا اصل راز قرآن مجید کے سمجھنے اور اس پر کار بند ہونے میں مضمر ہے۔چنانچہ حضور نے 6 جولائی 1928ءکو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ قرآن کریم کو پڑھے۔اگر عربی نہ جانتا ہوتو اردوترجمہ اور تفسیر ساتھ پڑھے عربی جاننے والوں پر قرآن کے بڑے بڑے مطالب کھلتے ہیں مگر یہ مشہور بات ہے کہ جو ساری چیز نہ حاصل کر سکے اسے تھوڑی نہیں چھوڑ دینی چاہئے۔کیا ایک شخص جو جنگل میں بھوکا پڑا ہو، اسے ایک روٹی ملے تو اسے اس لئے چھوڑ دینی چاہئے کہ اس سے اس کی ساری بھوک دور نہ ہوگی۔پس جتنا کوئی پڑھ سکتا ہو پڑھ لے اور اگر خود نہ پڑھ سکتا ہو تو محلہ میں جو قرآن جانتا ہو اس سے پڑھ لینا چاہئے۔جب شخص بار بار قرآن پڑھے گا اور اس پر غور کرے گا تو اس میں قرآن کریم کے سمجھنے کا ملکہ پیدا ہو جائے