خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 30 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 30

30 حضرت خلیفتہ المسیح کی اجازت سے جنوری 1914ء کے آغاز میں جماعت کے سامنے ہندوستان بھر میں دعوت الی اللہ کے لئے ایک سکیم پیش کی۔جس کے اہم پہلو یہ تھے (الف) ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں خاص طور جلسے کئے جائیں۔(ب) مختلف مقامات میں واعظ مقرر ہوں۔(ج) ہر زبان میں ٹریکٹ شائع ہوں۔(د) سکول کھولے جائیں۔(الفضل28,7 جنوری 1914ء) آپ نے تحریر فرمایا:۔اس وقت ایک دوست نے کچھ روپیہ تبلیغ سلسلہ کے لئے دینے کا وعدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے اس طرح خرچ کیا جائے کہ جماعت کے چند آدمی جو قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح جانتے ہوں۔حضرت صاحب کی کتب انہوں نے خوب مطالعہ کی ہوں۔تبلیغ کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح بھیجے جائیں کہ انہیں ڈیڑھ دو سور و پیہ تجارت کے لئے دیا جائے۔وہ مال تجارت لے کر ان علاقوں میں پھریں۔جن میں ہم انہیں بھیجیں اور اپنا گزارہ اور خرچ تجارت سے کریں۔پیہ محفوظ سمجھا جائے گا اور وہ ہمارا ہی ہوگا۔اس وقت زیادہ تر ضرورت راجپوتانہ ممالک متوسط بہار، بنگالہ ، بمبئی ، مدراس اور حیدرآباد کے علاقوں میں ہے“۔اس مقدس کام کے ثواب میں دوسرے احباب کو شریک کرنے کے لئے آپ نے ”دعوت الی الخیر کے عنوان سے ایک کالم شروع فرمایا۔جس میں ان احباب کی فہرست شائع کی جاتی رہی جو اس فنڈ میں الفضل 7 جنوری 1914ء ص13) اصل روپیه صہ لیتے رہے۔وسع مكانك كے لئے تحريكات خلافت اولی میں جماعت کے پھیلاؤ کے پیش نظر تعمیری کام میں بہت وسعت پیدا ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ المسیح الا ول کو ایسے انصار بھی عطا فرمائے جو خدائی منشاء اور امام وقت کے اشارہ ابروکو سمجھ کر سرگرم عمل ہو جاتے تھے۔جس طرح درس و تدریس کے کام میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آپ کے سب سے اول مددگار تھے اسی طرح تعمیری کاموں میں حضرت میر ناصر نواب صاحب آپ کے سب سے بڑھ کر معاون و معین تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے 1909ء میں اعلان کیا کہ قادیان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے