خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 31
31 پیش نظر چار قسم کی عمارات کی اشد ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح نے اس کام کے لئے 260 روپے عطا فرمائے۔ان میں مسجد نور، مردانہ ہسپتال ، زنانہ ہسپتال اور دار الضعفاء شامل تھے جن پر 20 ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ تھا۔جس کے لئے میر صاحب کو ملک کے طول و عرض میں دورہ کرنا پڑا۔مسجد نور کے لئے تحریک بدر 24 جون 1909 ص 3) دور خلافت اولیٰ کی تین مالی تحریکات کا تعلق مدرسہ تعلیم الاسلام کے ساتھ ہے۔مدرسہ کی اپنی عمارت کے ساتھ بورڈنگ ہاؤس اور مسجد کی اشد ضرورت تھی۔مدرسہ کے ساتھ مسجد نور کی اہمیت کے پیش نظر سب سے پہلے حضرت میر ناصر نواب نے پانچ ہزار روپیہ کا خرچ تجویز کیا اور اڑھائی ہزار روپیہ جماعتوں میں گھوم کر بطور چندہ وصول کیا۔اور اڑھائی ہزار روپیہ ایک خاتون کی وصیت سے میسر آ گیا۔تاریخ احمدیت جلد 3 ص 312) ریویو آف ریلیجنز اردو دسمبر 1909 ء ص 484 5 مارچ 1910ء کو حضور نے مسجد نور کا سنگ بنیاد رکھا اور 23 اپریل 1910ء کو بیت کا ایک کمرہ ( بدر 5 مئی 10-1909 ء ص 3) تیار ہونے پر نماز عصر پڑھا کر اس کا افتتاح کیا۔مسجد کی تکمیل کے بعد فضل حق صاحب مختار خلیفہ صاحب ریاست پٹیالہ نے اگست 1910ء میں تین سور و پیہ اس کے فرش کے لئے اور پچاس روپے کی رقم نلکا لگوانے کے لئے بھجوائی۔اور یکم نومبر 1910 ء سے اس کے لئے ایک مستقل خادم مقرر ہوا۔13-1912ء میں اس کا وسیع صحن تیار کرایا گیا۔اور جلسہ سالانہ یہیں منعقد ہونے لگا۔تاریخ احمدیت جلد 3 ص 312) یہ مسجد آپ کی زندگی میں ہی چھوٹی ہوگئی۔اس لئے آپ نے اس کی توسیع کی تحریک فرمائی۔چنانچہ جلسہ سالانہ 1912ء میں 27 دسمبر کو حضرت خلیفہ امسیح نے مسجد نور میں خطبہ جمعہ پڑھا۔جس میں فرمایا : یہ مسجد میرے نام پر بنی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں۔یہ کس قدر تنگ ہے۔اس مسجد نور کو بڑھاؤ۔مگر نیکی کے لئے۔اس میں مدرسہ بناؤ مگر قرآن شریف کا۔( بدر 27 فروری 1913 ء ص 4 کالم نمبر 3)