خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 309 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 309

309 اس وقت پاکستان بھی اور ہمارے آدمی بھی اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ تجارتی اور صنعتی ترقی میں حصہ لیں اور چونکہ ہماری جماعت تجارت کی طرف پوری توجہ نہیں کر رہی اس لئے جس طرح جماعت کے افراد پر چندہ عام فرض ہے اسی طرح ان کے ذمہ ایک تجارتی چندہ بھی لگایا جائے گا۔یہ تجارت مشترکہ کے لئے ایک جبری امانت کی سکیم ہوگی اور اس سے سارے ملک میں تجارتی دکا نہیں جاری کی جائیں گی اور پھر ترقی کرتے ہوئے بعض کا رخانے بھی کھولے جائیں گے۔اس غرض کے لئے جو رقم جمع ہوگی وہ ساری کی ساری جماعت کی ہوگی اور نفع بھی جماعت کا ہی ہوگا۔صرف ان کو تجارت کی اہمیت اور اس کی ضرورت سمجھانے کے لئے یہ جبری طریق جاری کیا جائے گا۔ماں باپ کا فرض ہوتا ہے اگر ان کے بچے محبت اور پیار سے کوئی بات نہ سمجھیں تو جبر سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔آپ لوگ میرے اور سلسلہ کے بچے ہیں اگر آپ لوگوں میں بیداری پیدا نہ ہوئی تو محض آپ کے فائدہ کے لئے ہر شخص کی حیثیت کے مطابق کچھ جبری چندہ عائد کیا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں آجکل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہر کمانے والے فرد سے کم از کم ایک روپیہ چندہ لیا جائے اور جو لوگ زیادہ دے سکتے ہوں وہ زیادہ دیں تو مالی لحاظ سے یہ کوئی خاص بوجھ نہیں ہوگا بلکہ اگر پچاس ساٹھ ہزار یا ایک لاکھ تک اس میں حصہ لینے والے نکل آئے تو ممکن ہے یہ چندہ ایک روپیہ سے بھی کم کر دیا جائے۔مثلاً آٹھ آنے کر دیا جائے یا چار آنے کر دیا جائے۔اس روپیہ سے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دکانیں کھولی جائیں گی اور کچھ کارخانے جاری کئے جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان کو ترقی دینے کی کوشش کی جائے گی۔ہماری جماعت زیادہ تر ملازموں اور زمینداروں کی جماعت ہے۔تجارت کی طرف اس کی بہت کم توجہ ہے اور یہ توجہ نہیں ہو سکتی جب تک ایک رنگ کا جبران پر نہ کیا جائے۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ہر شخص یا ہر جماعت پر کچھ نہ کچھ رقم اس کی حیثیت کے مطابق بطور چنده عائد کر دی جائے گی اور اس سے تجارتی دکانیں اور کارخانے قائم کئے جائیں گے مالک وہی ہوں گے ہم صرف مربی کے طور پر کام کریں گے۔تجارتی لحاظ سے میں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آڑھت کا کام کرنے کی کوشش کریں مجھ سے کئی ڈپٹی کمشنروں نے ذکر کیا ہے کہ ہم تلاش کرتے ہیں مگر مسلمان آڑھتی نہیں ملتا۔آڑھت کا کام چھوٹے قصبات میں ایک ہزار روپیہ سے اور درمیانی قصبات میں پانچ ہزار روپیہ