خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 310 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 310

310 سے اور اچھی منڈیوں مثلاً اوکاڑہ وغیرہ میں ہیں پچیس ہزار روپیہ سے چلایا جاسکتا ہے۔پس دوستوں کو آڑھت کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے اور ایک ایک دو دو ایکڑ زمین لینے کا خیال اپنے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔تاجر مصیبت کے اوقات میں بھی فائدہ میں رہتا ہے جہاں مصیبت آئی وہاں سے کام چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جاتا ہے اور پھر جن قوموں نے دنیا کو ہلانا ہو ان کے لئے تو بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی حرکت کو آزا در تھیں۔انہیں اپنے وجود کو اس طرح باندھنا نہیں چاہئے کہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف حرکت نہ کر سکیں۔یہ چیز ایسی ہے جس کے متعلق دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اور لوگوں کو بھی جو ان کے واقف ہوں سمجھائیں کہ زمین پر بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ اگر کامیاب زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو تجارت میں حصہ لو۔(انوار العلوم جلد 19 ص (397) صنعت و حرفت اور عورتیں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔صنعت و حرفت کی طرف غریب عورتوں کو متوجہ کرنا اور انہیں کام پر لگانا۔یہ کام کو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے لیکن اگر استقلال اور ہمت سے اس کام کو جاری رکھا گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ بیواؤں اور یتنامی کا مسئلہ حل کرنے میں کسی دن کامیاب ہو جائیں گی۔لجنہ کے اس کام میں تاجروں کی امداد کی بھی ضرورت ہے۔انہیں چاہئے کہ جو چیزیں بنوائے وہ انہیں بیچ دیا کریں۔اس میں ان کا بھی فائدہ ہوگا کیونکہ آخر وہ نفع ہی پر بیچیں گے اور غربا کا بھی فائدہ ہے کہ ان کے گزارہ کی صورت ہوتی رہے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس کام کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نہ صرف قادیان میں بلکہ بیرونی جماعتوں میں بھی کوئی بیوہ اور غریب عورت ایسی نہ رہے جو کام نہ ملنے کی وجہ سے بھو کی رہتی ہو۔ہمارے ملک میں یہ ایک بہت بڑا عیب ہے کہ بھوکا رہنا پسند کریں گے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔جامع ہدایات مشعل راه جلد اول ص 87 ) تجارت سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو مختلف اوقات میں تفصیل سے جو ہدایات دیں ان کا ایک مختصر خلاصہ درج ذیل ہے۔