خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 261
261 امید ہے کہ ان حالات کا علم ہونے کے بعد حکومت ان کے ازالہ کی کوشش کرے گی اور ہر وہ مسلمان جو ان کی کسی نہ کسی طرح مدد کر سکتا ہو اس سے دریغ نہ کرے گا۔میں اپنے سرحدی بھائیوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایسی حرکات نہ کریں جن سے امن میں خلل واقع ہو اس وقت وہاں ریفارم سکیم نافذ کی جارہی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس وقت وہاں پر امن فضا کی ضرورت ہے۔(الفضل 14 فروری 1932 ء ) مظلوموں کی امداد مشرقی پنجاب کے اضلاع حصار، رہتک کرنال اور گوڑ گاؤں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لئے ہندو اکثریت ان کو تباہ کرنے کے لئے اندر ہی اندر خوفناک تیاریوں میں مصروف تھی۔1932 ء میں ہندوؤں کی اس خفیہ سازش کا پہلا نشانہ پونڈری کے مسلمان بنے اس کے بعد انہوں نے 11 اکتوبر 1932ء کی رات کو بڑھلا ڈا ( ضلع حصار) کے مسلمانوں پر بھی یورش کر دی اور چند منٹوں میں سولہ مسلمان مرد عورتیں اور بچے گولیوں کا شکار ہوئے جن میں سے سات شہید اور نو زخمی ہو گئے۔عین اسی وقت جبکہ بڑھلاڈا کے مسلمانوں کو بہیمانہ طور پر ختم کیا جارہا تھا بندوقوں سے مسلح ہندوؤں نے تلونڈی کے آٹھ مسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان خونچکاں واقعات کی اطلاع اور مسلمانان بڈھلا ڈا کی درخواست پر صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی اے کو تحقیقات کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے ایک مبصر کی حیثیت سے نہایت محنت و عر قریزی کے ساتھ پیش آمدہ حالات کی چھان بین کی اور اس سازش کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا۔جو ایک عرصہ سے ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف نہایت منظم طور پر کر رکھی تھی۔صوفی صاحب کی مکمل تحقیقات الفضل 27 نومبر 1932ء (ص10,7) میں شائع کر دی گئی جس سے مسلمانان پنجاب کو پہلی بار صیح اور مکمل واقعات کا علم ہوا۔صوفی صاحب نے اپنے قیام کے دوران میں ایک اہم کام یہ بھی کیا کہ وہاں مسلمانوں کی تنظیم کے لئے ایک مسلم ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔جس کے صدر اور سیکرٹری بڈھلاڈا کے بعض اہل علم مسلمانوں کو مقرر کیا۔صوفی صاحب کے بعد مرکز کی طرف سے بعض اور اصحاب بھی بھجوائے گئے اور بالآخر چوہدری