خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 262 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 262

262 مظفرالدین صاحب بی اے بنگالی روانہ کئے گئے۔جنہوں نے اس علاقہ میں قریباً ایک سال تک قیام کیا۔افسروں سے ملاقات اور خط و کتابت کر کے مسلمانوں کی مدد کی اور اصل واقعات منظر عام پر لانے کے لئے متعدد مضامین لکھے۔چوہدری مظفر الدین صاحب نے مسلمانان حصار کی تنظیم میں بھی دلچسپی لی اور ان کی اقتصادی بہبود کے لئے بھی کوشش کرتے رہے اور جہاں ان کے جانے سے قبل بڑھلاڈا میں مسلمانوں کی خورونوش کی ایک دکان بھی موجود نہ تھی۔وہاں ان کی تحریک پر پانچ چھود کا نہیں کھل گئیں اور وہ مسلمان جو دہشت زدہ ہو گئے تھے اور ہندوؤں کی چیرہ دستیوں سے سہمے ہوئے تھے۔اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے لگے اور وہ ہندو اور سکھ افسر جو اس فتنہ کے پشت پناہ تھے تبدیل کر دئیے گئے۔حضور کی ہدایت کے مطابق احمدی نمائندہ نے حکومت پر مسلمانوں کا معاملہ ایسے طریق پر واضح کیا کہ اسے ظالم افسروں کے خلاف موثر اقدام کرنے کے بغیر کوئی چارہ کا رنہ رہا۔مسلمانان الور کی امداد تاریخ احمدیت جلد 6 ص 68 ) 1932ء میں ریاست الور کے بہت سے مسلمان ریاستی مظالم کی تاب نہ لا کر جے پورا جمیر شریف، بھرت پور اور ضلع گوڑ گاؤں اور دہلی وغیرہ مقامات میں آگئے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو جب ان کے حالات کا علم ہوا تو مظلوموں کی اعانت کے لئے سید غلام بھیک صاحب نیرنگ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور و جنرل سیکرٹری سنٹرل جماعت تبلیغ الاسلام کو دوسو روپے ارسال فرمائے۔اسی طرح مرکز کی طرف سے افسران بالا سے خط و کتابت کی گئی۔افسروں نے نہایت ہمدردی سے غور کیا اور ریاست کے متعلق حکام کو ہدایت کی کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات کا پورے طور پر خیال رکھیں اور ان کی شکایات کا تدارک کریں۔اس کے شکریہ میں نیرنگ صاحب نے انبالہ شہر سے 22 اکتوبر 1932ء کو حضور کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا۔( تاریخ احمدیت جلد 6 ص 75)