خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 224 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 224

224 نئی کلاسز کے لئے مالی تحریک: حضور نے کالج میں بی اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھولنے کے لئے 15 مارچ 1946ء کو ایک مضمون رقم فرمایا جس میں 2 لاکھ روپے کی تحریک فرمائی۔و تحمیل تعلیم کے لئے بی اے اور بی ایس سی کی جماعتوں کا ہونا ضروری ہے جس کے کھولنے کے لئے صرف عمارت اور فرنیچر اور سائنس کے سامان کا اندازہ ایک لاکھ ستر ہزار کیا جاتا ہے اور کل خرچ پہلے سال کا دولاکھ پانچ ہزار بنایا جاتا ہے۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے کالج کی بی اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھول دی جائیں اور اس سے دعائے کامیابی کرتے ہوئے ، میں جماعت احمدیہ کے مخلص افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے دل کھول کر چندہ دیں اور یہ دو لاکھ کی رقم اسی سال پوری کر دیں۔تا کہ یہ کام به تمام و کمال جلد مکمل ہو کر اسلام کی ایک شاندار بنیا د رکھی (الفضل 19 مارچ 1946ء) حضور کی اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر جماعت کے چار افراد نے 26 ہزار روپے کے وعدے کئے۔لجنہ اماءاللہ قادیان نے اس میں پانچ ہزار روپے کا وعدہ کیا۔جون 1946ء میں یہ وعدے ایک لاکھ سے اوپر نکل گئے اور اپریل 1947 ء تک اس مد میں ڈیڑھ لاکھ کے وعدے پہنچ گئے۔جائے۔پاکستانی دور 1947ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہجرت کر کے لاہور تشریف لائے اور قادیان کے نامساعد حالات کی بناء پر کالج بند ہو گیا۔24 اکتوبر 1947ء کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین پر جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کر دو۔چنانچہ لاہور کی ایک بوسیدہ عمارت میں دسمبر سے کالج کا آغاز کر دیا گیا۔ربوہ میں کالج کی مستقل عمارت کی تعمیر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی زیر نگرانی مکمل ہوئی اور 6 دسمبر 1954ء کو حضرت مصلح موعود نے اس کا افتتاح فرمایا۔افسوس کہ 1972ء میں حکومت نے اسے قومی تحویل میں لے لیا اور اس کی شاندار تعلیمی اور ادبی روایات کا خاتمہ ہو گیا۔