خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 179
179 پس ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر ملک میں تابعی پیدا کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ کو ان تک پہنچا دیں یا ان کو یہاں بلالیں اور اگر ہم یہ کر سکیں تو یہ کام اتنا شاندار ہوگا کہ کسی نبی کے زمانہ میں اس کی مثال نہ مل سکے گی۔کیونکہ کوئی نبی یا ما مور آج تک ایسا نہیں گزرا جس کے تابعی تمام دنیا میں تھے۔یہ ایک ایسی عجیب بات ہے کہ اس کے تصور سے ہی میرا دل مسرت سے بھر جاتا ہے اور بجلی کی رو کی طرح مسرت کی ہر تمام جسم میں دوڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح ناصری کے صحابہ شام سے چلے اور کشمیر یا مدر اس تک پہنچے تھے اور ان کا یہ کام اس زمانہ کے لحاظ سے بہت تھا مگر پھر بھی یہ کچھ نہ تھا۔ہم گو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح ناصری کے پیروؤں نے تابعی بنائے یا نہیں لیکن بہر حال انہوں نے روم سے لے کر کشمیر تک آپ کا پیغام ضرور پہنچا دیا تھا اور باوجودان دقتوں کے پہنچا دیا تھا جو اس زمانہ میں سفر کے رستہ میں تھیں۔لیکن ہمیں اس زمانہ میں جو سہولتیں حاصل ہیں وہ اس امر کی مقتضی ہیں کہ ہم ان سے بہت زیادہ کام کریں۔( خطبات محمود جلد 17 ص4) روایات صحابہ محفوظ کرنے کی تحریک سلسلہ احمدیہ کے قیام کو 1937ء میں اڑتالیس سال اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال مبارک پر انتیس سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔اس لمبے عرصہ کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کثیر التعدا در فقاء رحلت فرما گئے۔اس تشویش انگیز صورتحال کو دیکھ کر حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے جماعت کو 19 نومبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں باقی ماندہ رفقاء کی روایات کے محفوظ کرنے کی خاص تحریک فرمائی چنانچہ فرمایا:۔حضرت مسیح موعود کی وفات 1908ء کی ابتداء میں ہوئی ہے اور اس وقت جن لوگوں کی عمر پندرہ سال کی سمجھی جائے۔کیونکہ یہی کم سے کم عمر ہے جس میں بچہ سمجھ رکھتا ہے۔تو ایسے لوگوں کی عمر بھی اب 44 سال ہوگی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگ بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال اور جماعت میں رہ سکتے ہیں اور بظاہر آج سے 20, 25 سال بعد شائد ہی کوئی صحابی جماعت کو مل سکے۔ایسا صحابی جس نے حضور کی باتوں کو سنا اور سمجھا ہو۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی زندگی اور سیرت کے حالات کی کتابیں اور احادیث اگر جمع