خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 180 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 180

180 کی جائیں تو تین چار سو نخیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔جن میں سے ہر ایک جلد پانچ سو صفحات کی ہوگی۔اگر ایسی تین چار سو جلدیں بھی ہوں تو یہ ڈیڑھ لاکھ صفحات ہوں گے۔غرض صحابہ کرام نے اتنا ذخیرہ چھوڑا ہے کہ آج ہمیں بہت ہی کم یہ خیال آ سکتا ہے کہ کاش رسول کریم ﷺ کی فلاں بات ہمیں معلوم ہوتی۔مگر حضرت مسیح موعود کے حالات اقوال اور واردات کا بہت ہی کم حصہ محفوظ ہوا ہے۔میں نے بارہا دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ جو بات کسی کو معلوم ہو۔وہ لکھا دے اور دوسروں کو سنا دے۔مگر افسوس کہ اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے اور اگر کسی نے توجہ کی بھی ہے تو ایسی طرز پر کہ اس کا نتیجہ صفر کے برابر ہے۔پس میں دوستوں کو بالخصوص نظارت تالیف و تصنیف اور تعلیم کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ اس قسم کا کام ہے کہ اس میں سے بہت سا ہم ضائع کر چکے ہیں اور اس کے لئے ہم خدا کے حضور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔اب جو باقی ہے اسے ہی محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ہمارا سالانہ بجٹ تین لاکھ کا ہوتا ہے۔مگر اس میں ایک ایسا آدمی نہیں رکھا گیا جوان لیکچروں اور تقریروں کو جو صحابہ کریں، قلمبند کرتا جائے۔اب بھی اگر ایسا انتظام کر دیا جائے تو جو کچھ محفوظ ہو سکتا ہے اسے کیا جاسکتا ہے اور اس میں سے سال دو سال کے بعد جو جمع ہو شائع ہوتا رہے اور باقی لائبریریوں میں اور لوگوں کے پاس بھی محفوظ رہے، میں سمجھتا ہوں۔اب بھی جو لوگ باقی ہیں۔وہ اتنے ہیں کہ ان سے چالیس پچاس فیصدی باتیں محفوظ ہوسکتی ہیں۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک بہت بڑے مصنف بھی تھے۔اس لئے آپ کی کتابوں میں بھی بہت کچھ آچکا ہے۔لیکن جو باتیں صحابہ کو معلوم ہیں اگر ان کو محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسی قیمتی چیز کھو بیٹھیں گے جو پھر کسی صورت میں بھی ہاتھ نہ آسکے گی۔میں کئی سال سے اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر افسوس ہے کہ ابھی تک اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔(الفضل 26 نومبر 1937ء ) حضور کے اس فرمان مبارک پر حضرت مرزا شریف احمد صاحب ناظر تالیف و تصنیف نے حافظ بشیر احمد صاحب مولوی فاضل جالندھری کا انتخاب روایات صحابہ جمع کرنے کے لئے کیا۔لیکن حافظ صاحب ابھی اس کام کا چارج لینے نہ پائے تھے کہ 2 مئی 1938ء کو اچانک انتقال کر گئے اور عارضی طور پر یہ کام ملک محمد عبد اللہ صاحب کے سپرد کیا گیا۔ملک صاحب آخر اگست 1938 ء تک یہ کام سرانجام دیتے رہے۔انہوں نے رفقاء کرام سے روایات حاصل کر کے ان کو اخبار الفضل میں شائع