خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 178
178 صحابہ حضرت مسیح موعود کے متعلق تحریکات تابعی بنانے کی تحریک 3 جنوری 1936ء کو حضور نے صحابہ مسیح موعود کی زیارت کے ذریعہ دنیا کے تمام ممالک میں تابعین پیدا کرنے کی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔میرا پروگرام خواہ وہ ایک سال میں پورا ہو خواہ چار پانچ سال میں ، یہ ہے کہ کوئی ملک دنیا کا ایسانہ ہو، جس میں تابعی یعنی ایسے لوگ موجود نہ ہوں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ کو دیکھا ہے۔اس وقت دنیا کے قریباً ایک ہزار ممالک ہوں گے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچا دیں۔ملک کی تشریح میں حکومتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ زبان کے لحاظ سے کرتا ہوں اور مختلف زبانوں کے لحاظ سے اس وقت شاید ایک ہزار سے بھی زیادہ ممالک ہوں گے اور ان میں سے صرف ساٹھ ستر ہی ہیں جن تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی خبر پہنچی ہو۔باقی 900 سے زیادہ ابھی تک ایسے ہیں جن تک ابھی یہ خبر نہیں پہنچی بلکہ کافی حصہ ان میں ایسے ممالک کا بھی ہے جن میں اسلام کا نام تو ممکن ہے پہنچ چکا ہومگر تعلیم نہیں پہنچی اور میرا پروگرام یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ان ممالک میں تابعی پیدا کرسکیں۔وہ وقت تو گزر گیا جب ہم ساری دنیا کو صحابی بنا سکتے تھے مگر تابعی بنا سکنے کے لئے ابھی وقت ہے۔صحابہ نے بیسیوں ممالک میں تابعی بنا دیے تھے اور زبان کے لحاظ سے اگر ممالک کی تقسیم کی جائے تو سینکڑوں ممالک میں بنا یے تھے۔صحابہ کے زمانہ میں ریل ، تار، ڈاک وغیرہ کی سہولتیں نہ تھیں اور ان کے نہ ہونے کے باوجود جب صحابہ نے اتنا کام کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان سہولتوں کی موجودگی کے باوجود ہم ان سے زیادہ کام نہ کریں۔قربانی کی قیمت کا اندازہ رستہ کی رکاوٹوں سے کیا جاسکتا ہے۔اگر صحابہ نے دوسو ممالک میں تابعی بنائے تو ہم بھی دو سو ممالک میں تابعی بنا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے برابر ہم نے کام کیا ہے اس لئے جب تک ان سے کئی گنا زیادہ کام نہ کریں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ان کی مشابہت حاصل کر لی۔