خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 120
120 دنیا میں اور کوئی فتنہ نہیں اگر ہم اس کام کی سرانجام دہی کے لئے کھڑے نہیں ہو جاتے اور اس فتنہ کے مقابلے کی ضرورت اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم دنیا میں ذرہ ہی عزت کے بھی مستحق ہیں۔اس وقت اسلام کے مقابل پر بیسیوں جھنڈے بلند ہیں۔جب تک وہ تمام جھنڈے سرنگوں نہیں ہو جاتے جب تک تثلیث کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو جاتا۔جب تک بت پرستی کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو جاتا۔جب تک اسلام کے سوا باقی تمام جھنڈے سرنگوں نہیں ہو جاتے۔جب تک سب دنیا میں تکبیر کے نعرے بلند نہیں ہو جاتے ہم کبھی اپنے فرائض کو پورا کرنے والے سمجھے نہیں جاسکتے۔یہ وہ چیز ہے جسے میں آج پیش کرتا ہوں اور اگر چہ میں پہلے بھی اسے پیش کرتا رہا ہوں لیکن کچھ دنوں سے ایک طاقت مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں واضح طور پر یہ بات پیش کر دوں۔( خطبات محمود جلد 3 ص 345) غیر مبائعین کو محبت و خلوص سے تبلیغ کرنے کی تحریک حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب کی بیعت خلافت نے غیر مبائعین میں بہت جوش و خروش پیدا کر دیا۔جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے 29 مارچ 1940ء کو یہ تحریک فرمائی کہ نہایت درد اور اخلاص کے ساتھ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اصلاح کی پوری کوشش کی جائے۔نیز ہدایت فرمائی کہ ہر جماعت میں ”سیکرٹری اصلاح مابین کے نام سے ایک عہدیدار مقرر کیا جائے جس کا یہ فرض ہو کہ وہ غیر مبائعین سے ملے انہیں تبلیغ کرے، پرانا لٹریچر مہیا کرے اور جماعت کو اس لٹریچر سے آگاہ ے۔دوسرے یہ حکم دیا کہ جماعتیں غیر مبائعین کی مفصل لسٹیں مرکز میں بھجوائیں تا اُن کو مرکز سے بھی تبلیغی لٹریچر بھجوایا جاسکے۔ساتھ ہی نظارت دعوت و تبلیغ کو توجہ دلائی کہ وہ اس قسم کے علماء اور انگریزی خوانوں کی ایک لسٹ تیار کرے جو غیر مبائعین کے متعلق مفید مضامین لکھ سکتے ہوں اور پھر انہیں اخباروں اور رسالوں میں مضامین لکھنے کی تحر یک کرے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے غیر مبائعین کو تبلیغ کرنے والوں یا اس کی نسبت مضمون لکھنے والوں کو خاص طور پر یہ نصیحت فرمائی کہ دوستوں کو محبت اور پیار سے کام لینا چاہئے اور کبھی بھی سخی نہیں کرنی چاہئے۔یادر کھوتی سے تم دوسرے کو چپ کرا سکتے ہو سختی سے تم دوسروں کو شرمندہ کر سکتے ہو سختی سے تم