خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 121 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 121

121 دوسرے کو ذلیل کر سکتے ہو۔مگر سختی سے تم دوسرے کے دل کو فتح نہیں کر سکتے۔اگر تم دل فتح کرنا چاہتے ہو تو تمہارے اپنے دل میں یہ اخلاص اور درد ہونا چاہئے کہ میرا ایک بھائی گمراہ ہو رہا ہے اُسے کسی طرح میں ہدایت پر لاؤں۔جب تک یہ احساس اور یہ جذبہ تمہارے اندر نہ ہوگا۔۔اس سلسلہ میں اصلاح مابین کے سیکرٹریوں کو ارشاد فرمایا کہ: ” جب انہیں مرکز سے ٹریکٹ وغیرہ بھجوائے جائیں تو وہ محنت سے انہیں غیر مبائعین کے گھروں تک پہنچائیں تا اُن میں سے جو سعید لوگ ہیں وہ سلسلہ کی طرف توجہ کریں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اس خاص تحریک پر احمدی جماعتوں نے منظم طریق پر غیر مبائعین تک پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دی۔اہل قلم بزرگوں اور دوستوں نے ”الفضل، فاروق اور ریویو آف ریلیجز میں معلومات افزا مضامین 41-1940 ء کے دوران لکھے۔علاوہ ازیں نظارت دعوت و تبلیغ قادیان نے غیر مبائعین کے لئے مناسب ٹریکٹ اور اشتہارات شائع کئے اور ایک کمیٹی اصلاح مابین کے لئے قائم کر دی جس کے فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی تھا که غیر مبائعین اصحاب کے استفسارات کا جواب دیا جائے۔اس کمیٹی کے سیکرٹری حضرت قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری کے مقرر کئے گئے۔کمیٹی کے پاس متعدد اعتراضات پہنچتے رہے جن کا مدلل جواب علمائے سلسلہ کی طرف سے دیا جاتا رہا۔ان سب اصلاحی کوششوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں تک جماعت احمدیہ کے نوجوان خصوصاً اور دوسرے افراد عموماً متنازعہ مسائل کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل موقف کو پہلے سے زیادہ عمدہ طریق پر سمجھنے لگے وہاں بعض سعید الفطرت، غیر مبائعین کے حلقہ سے نکل کر نظام خلافت سے وابستہ ہو گئے۔صحابہ مسیح موعود کو اشاعت احمدیت کے لئے سرگرم عمل ہونے کی تحریک 3 جنوری 1941 ء کو سال کا پہلا جمعہ تھا جس کے خطبہ میں حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے سال نو کا پروگرام رکھتے ہوئے رفقاء حضرت مسیح موعود کو تلقین فرمائی کہ وہ احمدیت کی عمارت کو دنیا میں مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے ہر ممکن جد و جہد سے کام لیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔