خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 119
119 خاندان حضرت مسیح موعود کو تبلیغ کی زبردست تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 2 جولائی 1934 ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر صاحب اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اس پُر مسرت تقریب پر حضور نے ایک نہایت ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے افراد خاندان کو خصوصاً اور جماعت احمدیہ کو عموماً ان کی حفاظت اسلام سے متعلق اہم ذمہ داریوں کی نسبت پر زور طریق پر توجہ دلائی۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت امید ظاہر کی ہے کہ لنا له رجال من فارس اور یقین ظاہر کیا کہ اس فارسی النسل موعود کی اولا ددنیا کے لالچوں ، حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گی اور وہ کام یہ ہے دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا جائے۔ایمان کو ثریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے۔یہ امید ہے کہ جو خدا کے رسول نے کی اب میں اُن پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔خواہ میری اولا د ہویا میرے بھائیوں کی وہ اپنے دلوں میں غور کر کر کے اپنی فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے اگر کوئی شخص مغربیت کی نقل کا ذرہ بھی مادہ اپنے اندر رکھتا ہے تو وہ مسیح موعود کا حقیقی بیٹا نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اس نے اس آواز کو نہیں سنا، جسے پھیلانے کے لئے مسیح موعود مبعوث ہوئے۔پس میں وضاحت سے ان کو یہ پیغام پہنچا تا اور وضاحت سے ہر ایک کو ہوشیار کرتا ہوں کہ میں ہر ایسے خیال اور ہر ایسے شخص سے بیزار ہوں جس کے دل میں مغربیت کی نقل کا ذرہ بھی مادہ پایا جاتا ہے اور جو دین کی خدمت کرنے کے لئے تیار نہیں خواہ وہ میرا بیٹا ہو یا میرے کسی عزیز کا۔لیکن میں نے ہمیشہ یہ دعا کی ہے اور متواتر کی ہے کہ اگر میرے لئے وہ اولاد مقدر نہیں جو دین کی خدمت کرنے والی ہو تو مجھے اولاد کی ضرورت نہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسی دعا کی آخر دم تک توفیق عطا فرمائے۔ہمارے سامنے ایک عظیم الشان کام ہے اتنا عظیم الشان کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ہمارے سامنے ایک فتنہ ہے۔اتنا بڑا فتنہ کہ اس کے برابر