خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 86
86 چکے یا کرنے والے ہیں۔اس وقت غیر مذاہب میں تبلیغ کے لئے مبلغ بھیجنے کی ضرورت ہے۔اس لئے ایسے نوجوان ہوں جو دین کے متعلق واقفیت رکھتے ہوں یا واقفیت پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں۔اس وقت چند آدمیوں کی ضرورت ہے جن کو لے کر کام پر لگا دیا جائے گا یا تیاری کرائی جائے۔الفضل 15 مئی 1928ء - خطبات محمود جلد 11 ص 377) تبلیغ ممالک بیرون کے لئے وقف 1934ء میں تحریک جدید کے آغاز پر حضور نے وقف زندگی کا بڑے زور سے مطالبہ کیا جس پر بیسیوں احباب نے لبیک کہا اور دنیا بھر میں دعوت الی اللہ کی ایک مربوط اور منتظم سکیم کا آغاز ہوا۔تحریک جدید کا آٹھواں مطالبہ یہ تھا کہ ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔( الفضل 9 دسمبر 1934 ء) اس پر مولوی فاضل، بی اے، ایف اے اور انٹرنس پاس قریباً دوسونو جوانوں نے تین سال کے لئے وقف کر دیا۔(الفضل 22 دسمبر 1937ء) 1937ء میں حضور نے اس تحریک میں اضافہ کرتے ہوئے مستقل وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔حضور نے فرمایا۔دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نو جوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کے لئے ہے۔میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین ایسے تیار ہو جائیں جو علاوہ مذہبی تعلیم رکھنے کے ظاہری علوم کے بھی ماہر ہوں اور سلسلہ کے تمام کاموں کو حزم واحتیاط سے کرنے والے اور قربانی وایثار کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔(الفضل 24 نومبر 1938ء) یکم فروری 1945 ء کو حضور نے 22 واقفین کو بیرونی ممالک میں بھجوانے کے لئے منتخب فرمایا۔( تاریخ احمدیت جلد 8 ص 107 ) چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر 1945ء میں 16 مبلغین بیرونی ممالک کے لئے روانہ ہوئے اور یہ سلسلہ کسی تعطل کے بغیر آج تک جاری ہے۔