خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 87 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 87

87 دیہاتی مبلغین کے لئے تحریک ایک لمبے تجربہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے جب دیکھا کہ ہم اتنے مبلغ تیار نہیں کر سکتے جو دنیا کی ضرورت کو پورا کرسکیں۔تو اللہ تعالیٰ نے حضور کے دل میں دیہاتی مبلغین کی سکیم ڈالی اور حضور نے 29 جنوری 1943ء کو وقف برائے دیہاتی مبلغین جاری کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دو قسم کے مبلغ ہونے چاہئیں۔ایک تو وہ جو بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جا کر تبلیغ کرسکیں۔لیکچر اور مناظرے وغیرہ کرسکیں۔اپنے ماتحت مبلغوں کے کام کی نگرانی کر سکیں اور ایک ان سے چھوٹے درجہ کے مبلغ دیہات میں تبلیغ کے لئے ہوں۔جیسے دیہات کے پرائمری سکولوں کے مدرس ہوتے ہیں ایسے مبلغ دیہات کے لوگوں میں سے ہی لئے جائیں۔ایک سال تک ان کو تعلیم دے کر موٹے موٹے مسائل سے آگاہ کر دیا جائے اور پھر ان کو دیہات میں پھیلا دیا جائے اور جس طرح پرائمری کے مدرس اپنے ارد گرد کے دیہات میں تعلیم کے ذمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح یہ اپنے علاقہ میں تبلیغ کے ذمہ دار ہوں انہیں ایک سال میں موٹے موٹے دینی مسائل مثلاً نکاح، نماز، روزہ، حج ، زکوۃ، جنازہ وغیرہ کے متعلق احکام سکھا دئیے جائیں۔قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیا جائے ، کچھ احادیث پڑھائی جائیں، سلسلہ کے ضروری مسائل پر نوٹ لکھا دئیے جائیں۔تعلیم و تربیت کے متعلق ان کو ضروری ہدایات دی جائیں اور انہیں سمجھا دیا جائے کہ بچوں کو کس قسم کے اخلاق سکھانے چاہئیں اور اس غرض سے انہوں نے ایک دو ماہ خدام الاحمدیہ میں کام کرنے کا موقع بہم پہنچایا جائے اور یہ سارا کورس ایک سال یا سوا سال میں ختم کر کے انہیں دیہات میں پھیلا دیا جائے۔۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سکیم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے اور اپنے اپنے ہاں کے ایسے نو جوانوں کو جو پرائمری یا مڈل پاس ہوں اور لوئر پرائمری کے مدرسوں جتنا ہی گزارہ لے کر تبلیغ کا کام کرنے پر تیار ہوں۔فوراً بھجوا دیں تا ان کے لئے تعلیم کا کورس مقرر کر کے انہیں تبلیغ کے لئے تیار کیا جا سکے۔(الفضل 4 فروری 1943ء) چونکہ جنگ کا زمانہ تھا اور گرانی بہت تھی اس لئے ابتداء میں صرف پندرہ واقفین منتخب کئے گئے جن کی ٹریننگ با قاعدہ ایک کلاس کی شکل میں جنوری 1945 ء تک جاری رہی۔انہیں علمائے سلسلہ کے