خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 85
85 ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔مگر ابھی بہت سے علاقہ ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔اسی طرح اور کئی کام ہیں۔ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کا کام چلے یا نہ چلے۔لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے۔۔۔میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس میں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لئے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کو پسند کرتے ہیں۔تا ان کے لئے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔وہ بھی مشورہ کر سکتے ہیں۔(الفضل 22 دسمبر 1917ء۔خطبات محمود جلد 5ص611,610) اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے 63 نو جوانوں نے اپنے نام پیش کئے جن میں حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس، مولوی ظہور حسین صاحب، مولوی ابوبکر صاحب سماٹری، خان بہادر مولوی ابوالہاشم خان صاحب ایم اے اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس بنگال۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل بھی تھے۔مبلغین کے لئے تحریک تاریخ احمدیت جلد 4 ص204) حضور نے 4 مئی 1928ء کو جماعت کے نوجوانوں سے دوسری بار وقف زندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا: کچھ عرصہ ہوا میں نے تحریک کی تھی کہ نوجوان خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اس پر بہت سے نوجوانوں نے کیں جن میں کئی ایک عربی کی تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے اور کئی انگریزی کی۔اس وقت جتنے آدمیوں کی ضرورت تھی وہ پوری ہوگئی لیکن اب پھر بعض کا موں کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔پہلے میں نے مدرسہ احمدیہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے اور بعض نوجوانوں نے مجھے درخواستیں پہنچائی ہیں اور بعض نے دفتر میں دی ہیں۔اب میں باقی جماعت کو اس خطبہ کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں خصوصاً کالجوں کے طلباء کو اور ان طلباء کو جو اپنی تعلیم ختم کر