خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 67 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 67

67 گا۔پس مسلمانوں کی ترقی کا راز قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے جب تک مسلمان اس کے سمجھنے کی کوشش نہ کریں گے، کامیاب نہ ہوں گے۔کہا جاتا ہے دوسری قو میں جو قرآن کو نہیں مانتیں وہ ترقی کر رہی ہیں پھر مسلمان کیوں ترقی نہیں کر سکتے۔بے شک عیسائی اور ہندو اور دوسری قومیں ترقی کر سکتی ہیں لیکن مسلمان قرآن کو چھوڑ کر ہر گز نہیں کر سکتے۔اگر کوئی اس بات پر ذرا بھی غور کرے تو اسے اس کی وجہ معلوم ہو سکتی ہے اگر یہ میچ ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ ہمیشہ دنیا کو ہدایت دینے کے لئے قائم رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اگر قرآن کو خدا کی کتاب ماننے والے بھی اس کو چھوڑ کر ترقی کر سکیں تو پھر کوئی قرآن کو نہ مانے گا پس قرآن کی طرف مسلمانوں کو توجہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ترقی کا انحصار قرآن کریم ہو“۔الفضل 13 جولائی 1928 ء ص 7) کالم (3) حفظ قرآن کی تحریکات تعلیم القرآن کی ہی ذیلی سیکیم حفظ قرآن ہے۔حضور نے 7 دسمبر 1917 ء کو وقف زندگی کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔جو لوگ اپنے بچوں کو وقف کرنا چاہیں وہ پہلے قرآن کریم حفظ کرائیں۔کیونکہ مبلغ کے لئے حافظ قرآن ہونا نہایت مفید ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔اگر بچوں کو قرآن حفظ کرانا چاہیں تو تعلیم میں حرج ہوتا ہے۔لیکن جب بچوں کو دین کے لئے وقف کرنا ہے تو کیوں نہ دین کے لئے جو مفید ترین چیز ہے وہ سکھالی جائے۔جب قرآن کریم حفظ ہو جائے گا تو اور تعلیم بھی ہو سکے گی۔میرا تو ابھی ایک بچہ پڑھنے کے قابل ہوا ہے اور میں نے تو اس کو قرآن شریف حفظ کرانا شروع کر دیا ہے۔ایسے بچوں کا تو جب انتظام ہو گا اس وقت ہوگا اور جو بڑی عمر کے ہیں وہ آہستہ آہستہ قرآن حفظ کر لیں گے۔الفضل 22 دسمبر 1917ء - خطبات محمود جلد 5 ص (612) اپریل، مئی 1922 ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ کم از کم تھیں آدمی قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں جس پر کئی احباب نے لبیک کہا۔(الفضل 4 مئی 1922 ء ص 1 )