خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 68 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 68

68 24 /اپریل1944ء کو دعوی مصلح موعود کے بعد حضور نے پھر حفاظ پیدا کرنے کی تحریک فرمائی۔الفضل 26 جولائی 1944 ء ص 4,3) حضرت مصلح موعودؓ نے 29 اپریل 1946 ء کوتحریک فرمائی کہ قرآن کریم کا چرچا اور اس کی برکات کو عام کرنے کے لئے ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔چنانچہ فرمایا :۔صدرانجمن احمدیہ کو چاہئے کہ چار پانچ حفاظ مقرر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ مساجد میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھائیں۔اسی طرح جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے ان کو ترجمہ پڑھا دیں اگر صبح و شام وہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جائے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی ان سے کام لیا جا سکے گا۔بہر حال قرآن کریم کا چر چا عام کرنے کے لئے ہمیں حفاظ کی سخت ضرورت ہے۔انجمن کو چاہئے کہ وہ انہیں اتنا کافی گزارہ دے کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کرسکیں۔پہلے دو چار آدمی رکھ لئے جائیں پھر رفتہ رفتہ اس تعداد کو بڑھایا جائے“۔الفضل 26 راگست 1960 ءص4) چنانچہ حضور کی توجہ اور ہدایات کے تابع جماعت میں حفظ قرآن کی سکیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1920 ء سے قبل قادیان میں حافظ کلاس کا آغاز ہو چکا تھا اور حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے اسی کلاس سے قرآن حفظ کیا۔قیام پاکستان کے بعد یہ کلاس احمد نگر ، پھر مسجد مبارک ربوہ اور جون 1969 ء سے جامعہ احمدیہ کے کوارٹر اور کچھ دیر مسجد حسن اقبال جامعہ میں جاری رہی۔1976ء میں باقاعدہ مدرسۃ الحفظ قائم کیا گیا۔2000ء میں مدرسۃ الحفظ کو موجودہ نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔الفضل 11 اپریل 2001 ء ) مدرسۃ الحفظ سے سینکڑوں بچے اب تک قرآن حفظ کر چکے ہیں۔اسی طرح بچیوں کے لئے 17 مارچ 1993 ء سے عائشہ دینیات اکیڈمی قائم کی گئی ہے جس سے سینکڑوں بچیاں قرآن حفظ کر چکی ہیں۔2 ستمبر 2000ء کو برطانیہ میں مدرسہ حفظ قرآن عمل میں آیا جس میں ٹیلی فون اور جز وقتی کلاسوں کے ذریعہ بچوں کو قرآن حفظ کروایا جاتا ہے۔اس کا نام الحافظون رکھا گیا ہے۔یکم مارچ 2005ء کوغا نا میں جامعہ احمدیہ کے ساتھ مدرستہ الحفظ کا قیام عمل میں آیا۔(الفضل 13 مئی 2006 ء )