خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 44
44 ترقی کے لئے ضروری ہے وہ رسول کریم ﷺ کی برکات اور آپ کے فیوض کا دنیا میں وسیع ہونا ہے اور ان برکات اور فیوض کو پھیلانے کا بڑا ذریعہ درود ہے۔بیشک ہرنماز کے وقت تشہد کے وقت درود پڑھا جاتا ہے مگر وہ جبری درود ہے اور جبری درود اتنا فائدہ نہیں دیتا جتنا اپنی مرضی سے پڑھا ہوا درود انسان کو فائدہ دیتا ہے۔وہ درود بیشک نفس کی ابتدائی صفائی کے لئے ضروری ہے۔لیکن تقرب الی اللہ کے حصول کے لئے اس کے علاوہ بھی درود پڑھنا چاہئے۔پس میں دوسری تحریک یہ کرتا ہوں کہ ہر شخص کم از کم بارہ دفعہ روزانہ درود پڑھنا اپنے اوپر فرض قرار دے لئے۔الفضل 23 مئی 1944 ء ص 6,5) حضرت مصلح موعودؓ نے 12 اکتوبر 1947ء کو مجلس عرفان میں ایک پر معارف تقریر کے ذریعہ احمدیوں کو ذکر الہی اور نماز با جماعت کی خاص تحریک کی۔چنانچہ فرمایا:۔ہمیں تو ایسے رنگ میں اپنے اعمال کو ڈھالنا چاہئے۔جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کر دے۔پھر نماز سے پہلے اور پیچھے ذکر الہی کرنے میں بھی بہت غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔نماز سے پہلے جو وقت امام کے انتظار میں گزارا جاتا ہے اس کو بالعموم ادھر ادھر کی باتوں میں گنوا دیا جاتا ہے۔حالانکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ وقت ایسا ہی ہوتا ہے جیسے جہاد کا وقت۔ذکر الہی سے دماغ صاف ہوتا ہے۔فرشتوں سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور نفس کی کمزوریاں دور ہوتی ہیں۔پس ذکر الہی کی عادت ڈالو۔اپنے وقتوں کو صحابہ کے رنگ میں گزارو، ورنہ وہ برکتیں دیر تک پیچھے پڑتی ہی جائیں گی جو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کر رکھی ہیں۔ان فتنوں کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔پس خدا کے فضل کے جاذب بنو اور دعائیں کرو کہ قوم کے اندر اتحاد، قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا ہو۔اگر پاکستان میں بھی خدانخواستہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تو پھر سوائے سمندر میں جا کر غرق ہو جانے کے اس ملک میں مسلمانوں کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔الفضل14/اکتوبر 1947 ءص4) ایک الہامی دعا پڑھنے کی تحریک: حضرت مصلح موعود کو نومبر 1956ء کے آغاز میں بذریعہ خواب مندرجہ ذیل دو فقرے القاء ہوئے۔ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں“۔حضور نے 16 نومبر 1956ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو تحریک فرمائی کہ دوست اپنی دعاؤں میں یہ