خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 566
566 میرا فرض بنتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر خرچ کروں ، قربانیاں دوں۔پھر نو مبائعین کے بارے میں فرمایا کہ بیعت کرتے ہیں اور وہ چندہ نہیں دیتے۔ان کو بھی اگر شروع میں یہ عادت ڈال دی جائے کہ چندہ دینا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کے دین کی خاطر قربانی کی جائے تو اس سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے تو ان کو بھی عادت پڑ جاتی ہے۔بہت سے نو مبائعین کو بتایا ہی نہیں جاتا کہ انہوں نے کوئی مالی قربانی کرنی بھی ہے کہ نہیں۔تو یہ بات بتانا بھی انتہائی ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا پھر ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے جو مالی قربانیاں نہیں کرتے۔اب اگر ہندوستان میں ، انڈیا میں اور افریقن ممالک میں یہ عادت ڈالی جاتی تو چندے بھی کہیں کے کہیں پہنچ جاتے اور تعداد بھی کئی گنا زیادہ ہوسکتی تھی۔(الفضل 4 جنوری 2005ء) اہل پاکستان کو اعزاز قائم رکھنے کی تحریک: تحریک جدید کے سال 06-2005ء میں بھی اہل پاکستان نے مالی قربانی میں دنیا بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔حضور نے خطبہ جمعہ 3 نومبر 2006 ء میں اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کی طرح تمام دنیا میں ہر احمدی کو خواہ کسی بھی ملک یا نسل کا ہے خلافت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کی قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔لیکن میں پاکستانی احمدیوں سے امید رکھتا ہوں کہ وہ جو یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے کرتے آ رہے ہیں حتی المقدور کوشش کریں گے کہ یہ ان کے پاس ہی رہے۔آپ کی قربانیوں کی تاریخ جماعت احمدیہ کی بنیاد کے دن سے ہے جبکہ باقی دنیا کی تاریخ احمدیت اتنی پرانی نہیں اور اسی طرح قربانیوں کی تاریخ اتنی پرانی نہیں۔پس اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔آپ کی ہر قربانی کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ پھل پھول بخشا ہے اور آئندہ قربانیاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر پھل پھول لائیں گی۔آج سب سے زیادہ جان کی قربانیاں پیش کیں تو پاکستانی احمد یوں نے کیں۔مسلسل پہنی ٹارچر اور تکلیفیں برداشت کی ہیں تو پاکستانی احمدیوں نے کی ہیں۔باوجود نا مساعد حالات کے مالی قربانیوں میں بڑھنے کے معیار کو پاکستانی احمد یوں نے قائم رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی یہ قربانیاں ضائع نہیں کرے گا۔انشاء اللہ۔بلکہ کامیابیوں کے آثار بڑے واضح طور پر نظر آنے لگ گئے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ جب راستے کی ہر روک خس و خاشاک کی طرح اڑ جائے گی۔لیکن