خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 527 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 527

527 تمام جماعت کو تحریک 29 جولائی 2005ء کو الفضل انٹر نیشنل نے وصیت نمبر شائع کیا اس میں حضور نے تمام دنیا کے احمدیوں کے نام پیغام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے فرمایا:۔میرا تمام دنیا کے احمدیوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ان ارشادات کی روشنی میں آپ کی خواہشات کے تابع ، آگے بڑھیں اور مالی قربانی کے اس نظام میں شامل ہو جائیں اپنی اصلاح کی خاطر اور اپنے انجام بالخیر کی خاطر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قدم آگے بڑھائیں اور اس کی جنتوں کے وارث بنیں۔حضرت مسیح موعود کو ان برگزیدہ لوگوں کی قبریں بھی دکھائی گئیں جو اس نظام میں شامل ہو کر بہشتی ہو چکے ہیں۔خدا نے آپ کو فر مایا کہ یہ بہشتی مقبرہ ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ انزل فيها کل رحمۃ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے اس نظام میں پوری مستعدی کے ساتھ شامل ہوں۔جو خود شامل ہیں وہ اپنے بیوی بچوں کو اور دوسرے عزیزوں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کریں اور خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔الفضل انٹرنیشنل لندن 29 جولائی 2005 ص 1 ) اپریل 2006 ء میں حضور نے آسٹریلیا کا دورہ فرمایا اور خطبہ جمعہ 14 را پریل میں فرمایا کہ آسٹریلیا کے صوفی حسن موسیٰ صاحب بیرون ہندوستان نظام وصیت میں شامل ہونے والے اولین موصی تھے۔جنہوں نے مارچ 1906ء میں وصیت کی اس حوالہ سے حضور نے جماعت آسٹریلیا کو خصوصی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔100 سال کے بعد بیرون ہندوستان کے پہلے موصی کے ملک میں یہ میرا دورہ ہے اور اس سے پہلے میں وصیت کرنے کی تحریک بھی کر چکا ہوں۔یہاں آنے سے پہلے مجھے علم بھی نہیں تھا کہ یہاں بھی حضرت مسیح موعود کے نظام وصیت کا پہلا پھل آج سے 100 سال پہلے لگ چکا ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانے میں یہ پھل لگا اور آج سے پورے 100 سال پہلے ایک ایسا کامیاب پھل تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے تسلی بھی کروائی کہ تمہارا انجام بھی بخیر ہوگا۔تو کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ بیرون پاکستان اور