خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 526 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 526

526 انصار کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے تیار کریں۔اپنے بچوں کی بچپن سے ہی دینی ماحول میں تربیت کریں۔نمازوں کی عادت ڈالیں۔مالی قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا کریں۔آنحضرت ﷺ حضرت اقدس مسیح موعود اور نظام خلافت سے محبت اور اطاعت کا جذبہ ان میں اجاگر کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔اپنی نسلوں کو دنیا کے عذاب سے بچانے والے ہوں گے۔حضور نے 25 دسمبر 2006ء کو لجنہ جرمنی کی مجلس عاملہ کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: یو۔کے کی لجنہ کو میں نے کہہ دیا ہے کہ جو دینی احکامات پر عمل کرنے والی اور موصیبہ ہوا سے عہد یدار بنا ئیں۔وصیت اس لئے کہ حضرت مسیح موعود نے اسے مومن اور منافق میں فرق کی علامت قرار دیا ہے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس موضوع پر با قاعدہ ایک تقریر بھی فرمائی تھی۔آپ عہدیداران کو وصیت کی تحریک ضرور کریں۔ٹھیک ہے وہ پابند نہیں ہے کہ ضرور وصیت کرے لیکن پھر آپ بھی پابند نہیں ہیں کہ اسے عہد یدار بنائیں، اس لئے کہ اس نے گریجویشن کی ہوئی ہے اور وہ عقل کی باتیں کر لیتی ہے۔اس کی بجائے اسے عہد یدار بنائیں جو دینی احکامات پر عمل پیرا ہے، حضرت مسیح موعود کی بیعت کے بعد آپ کے جاری کردہ نظام وصیت میں بھی شامل ہے تو گو وہ کچھ کم الفضل 6 جنوری 2007ءص5) پڑھی ہوئی ہے، اسے عہد یدار بنا ئیں۔حضور کا ایک اور ارشادان الفاظ میں ہے۔تینوں ذیلی تنظیموں کو Push کریں اور صرف Youngster کے پیچھے نہ پڑے رہیں۔تا کہ زیادہ سے زیادہ موصی حاصل ہوسکیں اور یہ بھی کوشش کریں کہ اکثر وصیت کرنے والے کمانے والے لوگ ہوں بجائے اس کے کہ خانہ دارخواتین اور طالب علم وغیرہ اس میں شامل ہوں۔ان سے کہیں کہ وہ Easy Target نہ بنائیں بلکہ ایسا منظم کام کریں جس سے ٹھوس کوشش نظر آتی ہو“۔حضور نے 3 اگست 2005 ءکو مربیان سے ملاقات میں فرمایا:۔جن مربیان کی وصیت نہیں ہے وہ سارے وصیت کریں۔چونکہ مربی نے وصیت کی طرف دوست احباب کو راغب کرنا ہوتا ہے اس لئے وصیت ہوگی تو لوگوں کو وصیت کے نظام سے منسلک ہونے کی تلقین کر سکتا ہے“۔واقفین زندگی سے حضور انور کی توقعات ص 26 )