خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 528
528 ہندوستان نظام وصیت کی طرف توجہ اس ملک کے احمدیوں کو اس لحاظ سے بھی خاص طور پر کرنی چاہئے کہ وہ ایک شخص تھایا چند ایک اشخاص تھے جو یہاں رہتے تھے ان میں سے ایک نے لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر وصیت کے نظام میں شمولیت اختیار کی۔آج آپ کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل بھی بہت زیادہ ہیں اور 100 سال بعد اور تقریباً اس تاریخ کو 100 سال بھی پورے ہو چکے ہیں اس لئے اس لحاظ سے آپ لوگوں کو جو کمانے والے لوگ ہیں جو اچھے حالات میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے اور سب سے پہلے عہدیداران اپنا جائزہ لیں اور امیر صاحب بھی اس بات کا جائزہ لیں کہ 100 فیصد جماعتی عہد یداران اس نظام میں شامل ہوں ، چاہے وہ مرکزی عہدیداران ہوں یا مرکزی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں یا مقامی جماعتوں کے عہدیداران ہوں یا مقامی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں۔گو کہ اللہ کے فضل سے مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں مومیان کی تعداد کافی اچھی ہے لیکن حضرت صوفی صاحب کے حالات پڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ یہاں کا ہر احمدی موصی ہو اور تقویٰ پر قدم مارنے والا ہو۔یہ ایسا بابرکت نظام ہے جو دلوں کو پاک کرنے والا نظام ہے۔اس میں شامل ہو کے انسان اپنے اندر تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔اب سالو من آئی لینڈز (Soloman Islands) میں وہاں کے ایک نئے احمدی ہیں، انہوں نے بھی وصیت کی ہے تو جس طرح نئے آنے والے اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں اور انشاء اللہ بڑھیں گے ان لوگوں کو دیکھ کر آپ لوگوں کو بھی فکر ہونی چاہئے کہ کہیں یہ پرانے احمدیوں کو پیچھے نہ چھوڑ (الفضل 9 مئی 2006ءص5) جائیں۔ٹارگٹ کے پہلے حصہ کی تکمیل حضور کی اس تحریک پر احباب جماعت نے والہانہ لبیک کہا اور ایک سال میں 15 ہزارنٹی وصایا کا ٹارگٹ پورا کر دیا۔چنانچہ حضور انور نے جلسہ سالانہ یو۔کے 2005ء کے دوسرے دن 30 جولائی کے خطاب میں فرمایا:۔نظام وصیت کی جو میں نے تحریک کی تھی شامل ہونے کی گزشتہ سال کہ پندرہ ہزار شامل ہو جا ئیں تو