خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 352 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 352

352 تحریک وقف عارضی جماعت احمدیہ کی ایک بہت بڑی امتیازی خصوصیت اس کا وقف زندگی کا نظام ہے جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے رکھی اور پھر خلافت کے ذریعہ اس کی نشو ونما ہوئی اور کوئی سطحوں اور جہات میں اس کا پھیلاؤ ہوا۔ان میں وہ بھی ہیں جو کلیہ اپنی زندگی امام وقت کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔وہ بھی ہیں جو کسی فارم پر تو نہیں مگر عملاً واقف زندگی ہیں اور جان مال وقت اور عزت قربان کرنے پر ہمہ وقت مستعد ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وقف کے ضمن میں ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا اور 18 مارچ 1966ء کو حضور نے وقف عارضی کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ مرور زمانہ سے بہت سی جماعتوں میں سستی پیدا ہو چکی ہے اور جتنے مربیان اور معلمین ہمیں درکار ہیں اتنی تعداد میں میسر نہیں۔اس لئے آپ نے جماعت کو تحریک کی کہ وہ سال میں 2 تا 6 ہفتے جماعتی انتظام کے تحت وقف کریں۔سفر اور طعام کا خرچ خود برداشت کریں اور یہ دن عبادت ، دعاؤں، احباب جماعت کی تربیت اور خدمت دین میں گزاریں۔حضور نے فرمایا:۔دو میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ دوست جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے سال میں دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور انہیں جماعت کے مختلف کاموں کے لئے جس جس جگہ بھیجوایا جائے وہاں وہ اپنے خرچ پر جائیں اور ان کے وقف شدہ عرصہ میں سے جس قد ر عرصہ انہیں وہاں رکھا جائے اپنے خرچ پر رہیں اور جو کام ان کے سپرد کیا جائے انہیں بجالانے کی پوری کوشش کریں۔الفضل 23 مارچ 1966 ء ) ہر طبقہ حصہ لے: حضور نے جماعت کے تمام طبقات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب کو اس میں شمولیت کی دعوت دی اور فرمایا کہ کم سے کم 15 دن خدا کی خاطر دنیاوی کاموں سے رخصت لیں یا چھٹی کا حق خدا کی خاطر استعمال کریں۔آپ نے سالانہ 5 ہزار واقفین عارضی کی تحریک کی۔آپ نے